مچھلی پالن کے ساتھ اب کسان تیار کریں گے قیمتی موتی، 55 شرکاء میں اسناد کی تقسیم
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی ، 13؍ فروری: جھارکھنڈ حکومت کے محکمہ زراعت، مویشی پروری اور تعاون کی وزیر شلپی نیہا ترکی اور محکمہ جاتی سیکریٹری ابو بکر صدیق پی کی ہدایت اور ان کی رہنمائی میں جھارکھنڈ میں موتیوں کی افزائش (پرل کلچر) کو فروغ دینے کے مقصد سے فشریز فارمرز ٹریننگ سینٹر، دھروا میں موتیوں کی افزائش اور مہارت کی ترقی پر مرحلہ وار تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس کے تحت پانچ روزہ (9 سے 13 فروری، 2026) تربیتی پروگرام کا اختتام جمعہ کو ہوا۔ اس میں سرائے کیلا-کھرساواں، کھونٹی، دھنباد، چترا، ہزاری باغ اور رانچی اضلاع کے ماہی گیر کسانوں نے شرکت کی۔ تربیت حاصل کرنے والے شرکاء میں اسناد کی تقسیم سنجے گپتا (ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز، پلاننگ)، ڈاکٹر ریتیش شکلا (پروفیسر، سینٹ زیویئر کالج) اور بدھن سنگھ پورتی (ترقی پسند موتی پالک) کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز (پلاننگ) سنجے گپتا نے کہا کہ تربیت کے بعد تمام لوگ مچھلی پالنے کے ساتھ ساتھ موتیوں کی افزائش کا کام شروع کریں اور سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھائیں۔ کسانوں کو ڈیزائنر موتی، گول موتی اور رائس پرل کی تیاری کے بارے میں معلومات دی گئیں۔ سیپیوں کی سرجری، ادویات، سیپیوں کی پرورش کے لیے پانی کی تیاری، جراحی کے آلات کی جانکاری اور مارکیٹنگ کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ ڈائریکٹر فشریز امریندر کمار نے شرکاء کو پیغام دیا کہ مچھلیوں کی فصل کی بیمہ اسکیم نافذ ہے، کسان اس سے فائدہ اٹھائیں۔ ماہی گیروں کے لیے پردھان منتری اجتماعی حادثاتی بیمہ اسکیم بھی چلائی جا رہی ہے، جس کے پریمیم کی رقم حکومت برداشت کرتی ہے۔ انہوں نے شرکاء سے اس اسکیم سے بھی فائدہ اٹھانے کی اپیل کی۔ تربیت کے دوران ڈاکٹر ریتیش کمار شکلا اور بدھن سنگھ پورتی نے بطور ریسورس پرسن موتیوں کی افزائش کے طریقوں کے نظریاتی علم اور عملی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ تربیت کے دوران بتایا گیا کہ چھوٹے تالابوں، ڈوبھا اور سیمنٹ کے ٹینکوں وغیرہ میں بھی موتیوں کی افزائش کا کام آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ تربیتی پروگرام کے اختتام پر شکریہ کی تحریک منجوشری ترکی نے پیش کی۔ اس موقع پر مختلف اضلاع کے 55 کسان موجود تھے۔ یہ معلومات نظامت ماہی گیری کے چیف انسٹرکٹر پرشانت کمار دیپک نے فراہم کیں۔
