تمام ڈی سی اور اعلیٰ افسران کے ساتھ ہوگی میٹنگ
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،03؍جنوری: پیرنٹل میپنگ کے بعد جھارکھنڈ میں ووٹرز کی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (Special Intensive Revision – SIR) شروع ہونے جا رہی ہے۔ اب تک کی گئی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے بھارتی الیکشن کمیشن کی ٹیم 8 جنوری کو جھارکھنڈ کا دورہ کرنے آ رہی ہے۔ اس دو روزہ دورے کے دوران ریاست کے تمام ضلعی الیکشن افسران اور اعلیٰ حکام کے ساتھ میٹنگ ہوگی۔ یہ میٹنگ اے ٹی آئی (ATI) آڈیٹوریم میں ہونے کا امکان ہے۔
بھارتی الیکشن کمیشن کے حکام ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ میٹنگ کریں گے
اگر ایس آئی آر (SIR) کے حوالے سے تیاریاں اطمینان بخش رہیں تو فروری میں اس کے آغاز کا امکان ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایس آئی آر کے دوران گھر گھر فارم پہنچے گا جسے ہر ووٹر کے لیے بھرنا لازمی ہوگا، چاہے ان کا نام 2003 کی ووٹر لسٹ میں ہو یا نہ ہو۔ چیف الیکشن آفیسر کے. روی کمار کے مطابق بھارتی الیکشن کمیشن کے حکام دو روزہ دورے کے دوران تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز (ڈی سی) کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔ اس سلسلے میں تمام ضلعی الیکشن افسران کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ایس آئی آر سے پہلے سیاسی جماعتوں کی لفظی جنگ تیز
ایس آئی آر شروع ہونے سے پہلے سیاسی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ بی جے پی نے جہاں ووٹرز کی اس خصوصی نظرثانی کو درست قرار دیتے ہوئے اسے ضروری بتایا ہے، وہیں انڈیا (INDIA) اتحاد کی جماعتوں نے اس پر اعتراض جتایا ہے۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ دیپک پرکاش نے انڈیا اتحاد کی جانب سے کی جانے والی مخالفت پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے ووٹرز نے ایس آئی آر پر مہر لگا کر ان کی مخالفت کا کرارا جواب دینے کا کام کیا ہے۔
ایس آئی آر پر سیاسی جماعتوں کے درمیان رسہ کشی
ادھر، کل تک ایس آئی آر کی مخالف کرنے والی کانگریس کے تیور اب نرم پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر کیشو مہتو کملیش کہتے ہیں کہ پارٹی ایس آئی آر کے لیے تیار ہے اور اس مقصد کے لیے پارٹی نے 3500 بی ایل اے (BLA) بنا کر الیکشن کمیشن کو فہرست سونپ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس کے طریقہ کار پر اعتراض ہے۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ ملک میں رہنے والاہر شہری ووٹر ہے۔ بہرحال، جیسے جیسے ایس آئی آر کے حوالے سے ہلچل تیز ہو رہی ہے، ویسے ویسے سیاسی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ بھی شدت اختیار کر رہی ہے۔
