مسافروں نے میزائل اور دھماکوں کے درمیان خوف کے لمحات بیان کیے
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 06 مارچ:۔ خلیجی ممالک میں بڑھتی فوجی کشیدگی کے درمیان دبئی میں پھنسے جھارکھنڈ کے 80 سے زائد مسافر بالآخر تیسری کوشش میں شارجہ سے فلائٹ حاصل کر کے بحفاظت رانچی پہنچ گئے۔ رانچی ایئرپورٹ پر پہنچنے کے بعد مسافروں نے راحت کی سانس لی جبکہ ان کے اہل خانہ کی آنکھیں خوشی اور اطمینان سے نم ہو گئیں۔اطلاعات کے مطابق رانچی کے رہنے والے نو بیاہتا جوڑا اتل اروَاں اور ڈاکٹر کنچن باڑا شادی کے بعد ہنی مون کے لیے دبئی گئے تھے۔ 22 فروری کو شادی کے بعد دونوں 27 فروری کو دبئی روانہ ہوئے تھے اور 4 مارچ کو ان کی واپسی طے تھی۔ تاہم خلیجی خطے میں بڑھتی فوجی کشیدگی کے باعث وہ وہاں پھنس گئے۔ اتل اروَاں نے بتایا کہ یہ سفر یادگار لمحات کے لیے تھا لیکن حالات ایسے ہو گئے کہ صرف محفوظ گھر واپسی کی فکر رہ گئی۔ نو بیاہتا جوڑے نے ہندوستانی حکومت، جھارکھنڈ حکومت اور متحدہ عرب امارات میں واقع ہندوستانی سفارت خانے سے فوری مداخلت اور محفوظ واپسی کی اپیل کی تھی۔مسافروں نے رانچی پہنچنے کے بعد بتایا کہ دراصل انہیں 28 فروری کو ہی واپس آنا تھا، لیکن اچانک فلائٹ منسوخ ہونے کی وجہ سے کئی دن دبئی میں رکنا پڑا۔ اس دوران ان کے ہوٹل سے صرف دو سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر میزائل اور بم گرنے کی خبریں مل رہی تھیں۔ مسافر ابھیشیک ساہو نے بتایا کہ مسلسل کوششوں کے بعد تیسری بار شارجہ سے فلائٹ حاصل ہو سکی۔ سنیل کمار نے کہا کہ ملبہ کب اور کہاں گرے گا اس کا خوف ہر وقت ستاتا رہا۔اجے ساہو اور ویرین ساہو سمیت دیگر مسافروں نے بتایا کہ مسلسل دھماکوں اور میزائلوں کی آوازوں سے ماحول انتہائی خوفناک ہو گیا تھا۔ رانچی ایئرپورٹ پر مسافروں کی بحفاظت واپسی پر اہل خانہ نے ابیر اور گلال لگا کر خوشی کا اظہار کیا۔ مسافروں نے مشکل وقت میں تعاون کرنے پر کمپنی اور حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
