مرکزی حکومت کی پالیسیاں مزدوروں کے آئینی حقوق پر حملہ ہیں: حسین خان
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 3؍ جنوری: جھارکھنڈ پردیش کانگریس اقلیتی شعبہ کے چیئرمین منظور انصاری کی ہدایت پر آج کانگریس بھون، رانچی میں رانچی مہانگر کانگریس اقلیتی شعبہ کے صدر حسین خان کی صدارت میں ضلع عہدیداران اور بلاک صدور کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں خاص طور پر پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے بلائی گئی ملک گیر “منریگا بچاؤ” مہم کے تحت 5 جنوری 2026 کو باپو واٹیکا سے لوک بھون تک منعقد ہونے والے پد یاترا (پیدل مارچ) پروگرام کو کامیاب بنانے کے حوالے سے غور و خوض کیا گیا اور حاضرین کو اس میں بڑھ چڑھ کر شرکت کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ اجلاس کے دوران بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پارٹی عہدیداران کی عزت افزائی کی گئی اور تمام شرکاء کو نئے سال کی مبارکباد دی گئی۔ رانچی مہانگر کانگریس اقلیتی شعبہ کے صدر حسین خان نے کہا کہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے منریگا کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے، جس سے مزدوروں کے روزگار اور ان کے آئینی حقوق پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔منریگا سے مہاتما گاندھی جی کا نام ہٹایا جانا بی جے پی کی گاندھی مخالف ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ جس عظیم شخصیت اور نظریے کو دنیا کے متعدد ممالک عزت اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں، اسی نظریے کی مخالفت میں بی جے پی اور آر ایس ایس ہمیشہ کھڑے نظر آتے ہیں۔ مہاتما گاندھی جی صرف ایک نام نہیں بلکہ سچائی، عدم تشدد اور سماجی انصاف کے نظریے کی علامت ہیں۔ منریگا جیسی عوامی فلاحی اسکیم سے ان کا نام ہٹانے کی کوشش غریب، مزدور اور محروم طبقات کے جذبات کو مجروح کرنے والی ہے۔ اجلاس میں محمد صفار، محمد فیروز، پرویز خان، سنکی خان، فیض خان، شبانہ پروین، غزالہ پروین، نعیمہ خاتون، ناچ خاتون، پنکو خان سمیت تمام قائدین شریک تھے۔
