ڈرون کی مدد سے 50 ایکڑ پر پھیلی افیم کی کھیتی تباہ
جدید بھارت نیوز سروس
ہزاریباغ،10؍جنوری: نشہ معاشرے کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اس کے باوجود کئی ایسے لوگ ہیں جو اس گورکھ دھندے میں لگے ہوئے ہیں۔ موجودہ موسم افیم کی کاشت کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے نشے کے سوداگر دیہاتیوں سے افیم کی کاشت کرواتے ہیں۔ ہزاری باغ پولیس نے ایسے تاجروں کے خلاف بڑی مہم چلائی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس میں پولیس مخبروں کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کا بھی سہارا لے رہی ہے۔درحقیقت، ضلع میں ڈرون کے ذریعے دور دراز دیہی علاقوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ جیسے ہی پولیس کو معلومات ملتی ہے کہ کہیں افیم کی کاشت ہو رہی ہے تو مہم چلائی جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک بڑی مہم ہزاری باغ ایس پی انجنی انجن کی قیادت میں چلائی گئی۔چوپارن کی دیہر پنچایت کے موہنیا اور دورا گڑھ میں افیم کی کاشت کے بارے میں پولیس کو ٹیکنالوجی کے ذریعے معلومات حاصل ہوئیں۔ جہاں تقریباً 50 ایکڑ اراضی پر افیم کی کاشت کی جا رہی تھی۔ جس کے بعد پولیس اور محکمہ جنگلات کی ٹیمیں بھاری نفری کے ساتھ موقع پر پہنچیں اور مشترکہ کارروائی میں تقریباً 50 ایکڑ پر لگی افیم کی فصل کو تلف کر دیا گیا۔
ایس پی کی دیہاتیوں سے اپیل
ہزاری باغ ایس پی انجنی انجن نے بتایا کہ افیم کی کاشت کے خلاف مشترکہ کارروائی کی گئی، جس میں تقریباً 50 ایکڑ پر پھیلی افیم کی فصل کو تباہ کر دیا گیا۔ اس دوران انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی شخص نشے کے کاروبار میں ملوث پایا جائے گا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی بھی شخص بہلا پھسلا کر افیم کی کاشت کے لیے اکسا تا ہے تو اس کی اطلاع فوری طور پر محکمے کو دیں۔ محکمہ اطلاع دینے والوں کا نام صیغہ راز میں رکھتے ہوئے کارروائی کرے گا۔ ساتھ ہی اگر کہیں افیم کی کاشت کی اطلاع ملے تو اس کی اطلاع ذاتی طور پر ایس پی کو دیں۔ہزاری باغ ایس پی نے دیہاتیوں سے کہا کہ اب وہ متبادل کاشتکاری کی طرف آگے بڑھیں۔ کسان متبادل کاشتکاری کے ذریعے اقتصادی طور پر خوشحال ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ہزاری باغ کا سرحدی علاقہ افیم کی کاشت کے لیے پوری ریاست میں مشہور ہے۔ افیم کی کاشت کو ختم کرنے کے لیے محکمہ جنگلات اور ضلع پولیس ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہی ہے۔
