ہومJharkhandپلاموں، گڑھوا اور لاتیہار میں لسانی تنازع نے پھر پکڑا طول؛ حکومت...

پلاموں، گڑھوا اور لاتیہار میں لسانی تنازع نے پھر پکڑا طول؛ حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کا آغاز

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

جدید بھارت نیوز سروس
پلاموں،30؍مارچ: ضلع پلاموں، گڑھوا اور لاتیہار کے علاقوں میں ایک بار پھر زبان کا تنازع شروع ہو گیا ہے۔ جھارکھنڈ اہلیتی امتحان (JET) کے لیے پلاموں اور گڑھوا کے لیے ریاستی حکومت نے مقامی زبان کے طور پر ناگپوری اور کُڑکھ (اراؤں) کا انتخاب کیا ہے۔ 2025 میں بھی انہی دو زبانوں کا انتخاب کیا گیا تھا۔ 2025 میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا اور ریاستی حکومت سے مقامی زبان کے طور پر بھوجپوری، مگہی اور ہندی جیسی زبانوں کو شامل کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔آج حکومت نے ایک بار پھر جھارکھنڈ اہلیتی امتحان کے لیے مقامی زبانوں کی فہرست جاری کی ہے، جس میں ناگپوری اور کُڑکھ (اوراؤں) کو پلاموں، گڑھوا اور لاتیہار کے علاقوں کے لیے ترجیحی زبان قرار دیا گیا ہے۔ پلاموں کے علاقے میں بھوجپوری اور مگہی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانیں ہیں۔
پلاموں میں نو، گڑھوا میں سات اور لاتیہار میں 45 فیصد قبائلی:
دراصل 2011 کی مردم شماری کے مطابق پلاموں کی آبادی 36.19 لاکھ ہے۔ جس میں قبائلی آبادی صرف 34.9 فیصد ہے، جبکہ گڑھوا میں قبائلیوں کی شرح تقریباً سات فیصد ہے۔ صرف لاتیہار میں قبائلی آبادی تقریباً 45 فیصد ہے۔ پلاموں ڈویژن کی سرحدیں اتر پردیش اور بہار سے ملی ہوئی ہیں۔ یہاں بھوجپوری اور مگہی کا سب سے زیادہ اثر رہا ہے۔ پلاموں ڈویژن کی ایک مقامی زبان ہے جسے ‘پلموا‘زبان بھی کہا جاتا ہے۔ پلموا زبان بھی نوٹیفائیڈ ہے۔ 2023 میں منعقدہ JTET امتحان میں بھوجپوری کو مقامی زبان کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ڈالٹن گنج ایم ایل اے آلوک چورسیا ریاستی حکومت پلاموں، گڑھوا اور ان علاقوں کے ساتھ جہاں بھوجپوری زیادہ بولی جاتی ہے، سوتیلا سلوک کر رہی ہے۔ وہ ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اہلیتی امتحان کے لیے مقامی زبان کے طور پر بھوجپوری، مگہی اور ان زبانوں کو شامل کیا جائے جو چھوٹ گئی ہیں۔ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف پلاموں کے لوگ خاموش نہیں بیٹھیں گے، احتجاج کریں گے۔ یہ تحریک سڑک سے ایوان تک چلے گی۔ ریاستی حکومت پلاموں کے ساتھ مسلسل سوتیلا سلوک کر رہی ہے، یہاں سے تحریک شروع ہوگی تاکہ یہاں کے نوجوانوں اور لوگوں کو ان کا حق مل سکے۔
پلاموں میں تحریک کا آغاز، سیاسی پارٹیاں اور طلبہ تنظیمیں متحد
جھارکھنڈ میں مقامی زبان کے اعلان کو لے کر بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ بی جے پی کے ساتھ ساتھ دیگر طلبہ تنظیمیں بھی سڑکوں پر اتر آئی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی یووا مورچہ کے ارکان نے پلاموں کلکٹریٹ گیٹ پر نوٹیفکیشن کی کاپی نذرِ آتش کی اور اپنی مخالفت درج کرائی۔وہیں پلاموں میں طلبہ تنظیموں اور نوجوانوں کی آواز اٹھانے والی تنظیموں نے بھی تحریک تیز کر دی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پلاموں ضلع صدر امیت تیواری نے کہا کہ یہ محض علامتی احتجاج ہے اور نوٹیفکیشن کی کاپی جلائی گئی ہے۔ اگلے مرحلے میں بڑے پیمانے پر تحریک چلائی جائے گی۔زبان کے حوالے سے مسلسل ہونے والے احتجاج کی قیادت کرنے والے راہول دوبے نے بتایا کہ یہ صرف بھوجپوری اور مگہی کے ساتھ نہیں بلکہ پلاموں کے باسیوں کے ساتھ سوتیلا سلوک ہے۔ پلاموں خاموش نہیں رہے گا، احتجاج کرے گا۔ پچھلی بار JTET کے امتحان میں بھوجپوری شامل تھی لیکن اس بار اسے شامل نہیں کیا گیا ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.