کہا:پیسا قانون قبائلی خود حکمرانی کی روح ہے
بی جے پی پہلے پیسا قانون کا مطالعہ کرے : سکھدیو بھگت
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 06؍ جنوری: جھارکھنڈ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر کیشو مہتو کملیش نےآج منعقدہ پریس کانفرنس میں بی جے پی لیڈر چمپئی سورین کی پریس کانفرنس پر تیکھا جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ پیسا قانون صرف ایک قانون نہیں، بلکہ قبائلی خود حکمرانی کی روح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے برسوں حکومت کی، ان کے دورِ اقتدار میں قبائلیوں کی نہ زمین محفوظ رہی، نہ جنگل اور نہ ہی حقوق۔ آج وہی لوگ پیسا کے بارے میں ابہام پھیلا کر قبائلی سماج کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صوبائی صدر نے واضح کیا کہ پیسا رولز (Rules) بنانے کا عمل مکمل طور پر شفاف رہا، عوام، سماجی تنظیموں اور عوامی نمائندوں سے رائے لینے کے بعد اسے حتمی شکل دی گئی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ سکھدیو بھگت نے کہا کہ بی جے پی کی سیاست “ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا” جیسی ہے۔ پیسا کو ٹھیک سے پڑھے اور سمجھے بغیر، بی جے پی لیڈر مذہبی اور گمراہ کن باتیں پھیلا کر قبائلی سماج کو آپس میں لڑوانا چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قبائلیوں کو ‘ونواسی ‘ کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں لاکھوں ایکڑ قبائلی زمین لینڈ بینک میں ڈال کر سرمایہ داروں کے حوالے کرنے کی سازش رچی گئی۔ بھگت نے سوال اٹھایا کہ سرنا دھرم کوڈ کے مسئلے پر بی جے پی کیوں خاموش ہے، جبکہ اتحاد کی حکومت نے اسے اسمبلی سے منظور کر کے مرکز کو بھیج دیا ہے؛ اس سے واضح ہے کہ بی جے پی کو قبائلیوں کے مذہب، ثقافت اور شناخت سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیسا قانون سے مہاتما گاندھی کے گاؤں کو مضبوط کرنے کے خواب کو تقویت ملی ہے۔اس موقع پر ایم ایل اے وکسل کونگاڑی نے کہا کہ بی جے پی نے اپنے دورِ حکومت میں 2013 کے اراضی حصول کے قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی تھی اور لینڈ بینک کے ذریعے قبائلیوں کی زمین چھیننے کی پالیسی اپنائی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی نظر جھارکھنڈ کی زمین، جنگل اور معدنی دولت پر ہے، نہ کہ قبائلیوں کے مفادات پر۔پریس کانفرنس میں رہنماؤں نے متفقہ طور پر کہا کہ اتحاد کی حکومت قبائلی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور پیسا قانون کے مؤثر نفاذ سے گرام سبھا کو حقیقی اختیارات ملیں گے۔ قبائلی سماج بی جے پی کی سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ پریس کانفرنس میں صدر کیشو مہتو کملیش، رکن پارلیمنٹ سکھدیو بھگت، رکن پارلیمنٹ کالی چرن منڈا، ایم ایل اے نمن وکسل کونگاڑی، راکیش سنہا، ستیش پال منجنی اور جگدیش ساہو موجود تھے۔
