ہومJharkhandجھارکھنڈ کا سب سے اونچا آبشار ’لودھ فال ‘سیاحوں کا پسندیدہ مرکز

جھارکھنڈ کا سب سے اونچا آبشار ’لودھ فال ‘سیاحوں کا پسندیدہ مرکز

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

نئے سال پر ہزاروں کی آمد

جدید بھارت نیوز سروس
لاتیہار ،یکم؍جنوری: جھارکھنڈ کا سب سے اونچا آبشار لودھ فال سیاحوں کے لیے ہاٹ اسپاٹ بن گیا ہے۔ نئے سال کے پہلے دن ہزاروں کی تعداد میں سیاح یہاں پہنچے اور یہاں کی دلکش وادیوں اور جھارکھنڈ کے سب سے اونچے آبشار کا لطف اٹھایا۔ سیاحوں کے ہجوم کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں سیکورٹی کے پختہ انتظامات کیے گئے تھے۔دراصل، لاتیہار ضلع کے مہواڈانڈ بلاک میں واقع لودھ فال جھارکھنڈ کا سب سے اونچا آبشار ہے۔ تقریباً 143 میٹر کی بلندی سے سیدھا زمین پر گرنے والابوڑھا ندی کا پانی نہ صرف جھارکھنڈ بلکہ آس پاس کی دیگر ریاستوں کے سیاحوں کے لیے بھی کشش کا مرکز ہے۔ لاتیہار ضلع ہیڈ کوارٹر سے تقریباً 110 کلومیٹر اور رانچی سے تقریباً 200 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع لودھ فال کی سیر کے لیے نئے سال کے موقع پر بڑی تعداد میں سیاح پہنچے ہیں۔ یہاں پہنچنے کے بعد سیاح قدرتی خوبصورتی دیکھ کر مسحور ہو گئے۔سیاح ادت نے بتایا کہ یہاں کی خوبصورتی دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تین مختلف اطراف سے ندی کا پانی پہاڑی سے سیدھا زمین پر گرتا ہے۔ چاروں طرف پہاڑیوں سے گھرے ہونے کی وجہ سے اس جگہ کی خوبصورتی مزید بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی سطح پر انتظامات تو ٹھیک ٹھاک ہیں، لیکن اگر آبشار کے پاس بنایا گیا لکڑی کا پل درست کر دیا جاتا تو سیاحوں کو مزید مزہ آتا۔
لکڑی کا پل ہو گیا ہے تباہ
واضح ہو کہ لودھ آبشار کو سیاحوں کے لیے مزید پرکشش بنانے کے مقصد سے محکمہ جنگلات کی جانب سے یہاں ایک لکڑی کا پل بھی بنایا گیا تھا۔ گزشتہ برس ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے لکڑی کا پل تباہ ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے سیاحوں کو پل کے اوپر جانے سے روک دیا گیا ہے۔ تاہم، محکمہ جنگلات کی جانب سے اس لکڑی کے پل کی مرمت کے لیے تجویز تیار کر لی گئی ہے اور امکان ہے کہ جلد ہی یہ پل مکمل طور پر درست ہو جائے گا۔
دیگر ریاستوں سے بھی پہنچتے ہیں سیاح
جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، بہار اور مغربی بنگال سمیت کئی دیگر ریاستوں کے سیاحوں کے لیے یہ آبشار سیر و تفریح کا بہترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ نومبر کا مہینہ شروع ہونے کے بعد سے ہی یہاں سیاحوں کا ہجوم امنڈنے لگتا ہے اور مارچ کے مہینے تک سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں بیرون ملک سے بھی سیاح آتے ہیں۔ اسی لیے محکمہ جنگلات کی جانب سے ایک ترقیاتی کمیٹی کے ذریعے سیکورٹی کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ جہاں آبشار کا پانی پہاڑی سے نیچے گرتا ہے، وہاں پانی کافی گہرا ہے، اس لیے وہاں پانی میں اترنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور اس پر پابندی عائد ہے۔
سڑک کے ذریعے پہنچ سکتے ہیں لودھ فال
لودھ فال صرف سڑک کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے۔ چھتیس گڑھ، لاتیہار، پلاموں یا رانچی سے سب سے پہلے سڑک کے ذریعے مہواڈانڈ پہنچنا پڑتا ہے، جس کے بعد مہواڈانڈ سے تقریباً 17 کلومیٹر کے فاصلے پر لودھ فال کی پارکنگ واقع ہے۔ پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرنے کے بعد سیاح تقریباً ایک کلومیٹر پیدل چل کر آبشار تک پہنچتے ہیں۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version