ہومJharkhandبیرون ملک میں زیر تعلیم جھارکھنڈ کے محققین کی وزیراعلیٰ ہیمنت سے ملاقات

بیرون ملک میں زیر تعلیم جھارکھنڈ کے محققین کی وزیراعلیٰ ہیمنت سے ملاقات

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

وزیر اعلیٰ کا اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے فروغ کیلئے حکومتی عزم کا اعادہ

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 17 فروری: کانکے روڈ واقع وزیراعلیٰ رہائشی دفتر میں آج وزیراعلیٰ ہیمنت سورین سے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم اور تحقیق میں مصروف جھارکھنڈ کے اسکالرس نے خیرسگالی ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے تمام مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ریاست کا نام عالمی سطح پر روشن کرنے پر انہیں مبارکباد پیش کی۔
شرکائے ملاقات
ملاقات کرنے والوں میں ڈاکٹر ریجینا ہانسدا، جو یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں ترقیات اور انصاف کی لیکچرر ہیں، ڈاکٹر رچرڈ ٹوپو، جنہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے، مادھوری کھلکھو، جو سواس یونیورسٹی آف لندن میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں، روبی ہیمبرم، جو لندن اسکول آف اکنامکس میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں، اور نولینا منج، جنہوں نے یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز سے ماسٹرس مکمل کیا ہے، شامل تھیں۔
حکومتی پالیسی پر اظہار تشکر
اس موقع پر محققین نے وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی دوراندیش پالیسی اور تعلیم کے تئیں واضح وژن کے باعث جھارکھنڈ کے باصلاحیت طلبہ بیرون ملک اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے میدان میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے دورۂ بیرون ملک کے دوران مرانگ گومکے جے پال سنگھ منڈا پردیسی اسکالرشپ اسکیم کے تحت زیر تعلیم طلبہ سے ملاقات ایک حوصلہ افزا قدم تھا، جس سے نوجوانوں میں نیا اعتماد پیدا ہوا ہے۔
تعلیم کے فروغ کا عزم
جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے کہا کہ مرانگ گومکے جے پال سنگھ منڈا کے بعد آج ریاست کے قبائلی طلبہ آکسفورڈ جیسی عالمی شہرت یافتہ جامعات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو فخر کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ جھارکھنڈ کے زیادہ سے زیادہ طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ فی الحال ہر سال 25 طلبہ اس اسکیم سے مستفید ہو ر

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version