آر ٹی ای ایکٹ کی خلاف ورزی پر سخت قدم اٹھانے اور ہیلپ لائن قائم کرنے کی مانگ:ایس علی
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 05؍ اپریل: نجی اسکولوں کی من مانی کے خلاف جھارکھنڈ چھاتر سنگھ (جے سی ایس) کے ارکان نے پلے کارڈز لے کر رانچی ڈی سی سمیت ریاست کے دیگر اضلاع کے ڈی سی کے نام مطالبہ نامہ جاری کرتے ہوئے اصلاح اور کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جھارکھنڈ چھاتر سنگھ کے مرکزی صدر ایس علی نے کہا کہ رانچی سمیت ریاست کے مختلف اضلاع میں چلنے والے سی بی ایس ای اور آئی سی ایس ای بورڈ سے الحاق شدہ اسکول آر ٹی ای ایکٹ 2009 کی دفعہ 13 (1) (2) اور جھارکھنڈ ایجوکیشن ٹربیونل ایکٹ 2017 کی کھلے عام خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ان اسکولوں کے ذریعے اینول فیس، ری ایڈمیشن فیس، ڈیولپمنٹ فیس اور دیگر متفرق چارجز من مانی طریقے سے وصول کیے جا رہے ہیں جو کسی بھی طرح جائز نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ این سی ای آر ٹی کی کتابیں چلانے کے بجائے نجی پبلشرز کی مہنگی کتابیں نافذ کی جا رہی ہیں اور مخصوص دکانداروں سے ہی خریدنے کی ہدایت دی جاتی ہے، یہی صورتحال طلبہ کے یونیفارم اور دیگر خریداریوں میں بھی ہے۔نجی اسکولوں کی اس من مانی اور آمریت کی وجہ سے والدین مایوس اور پریشان ہیں، وہ بچوں کے مستقبل کے خوف سے لب کشائی نہیں کر پاتے جس کا فائدہ نجی اسکولوں کی جانب سے مسلسل اٹھایا جا رہا ہے۔نجی اسکولوں کی فیس کمیٹی اور پی ٹی اے (PTA) میں قریبی یا من پسند لوگوں کو رکھا جاتا ہے، جن کے تعاون سے اسکول کے مختلف شعبوں میں ہر سال 15 سے 30 فیصد فیس بڑھا دی جاتی ہے اور کتابیں بدل دی جاتی ہیں، جو آر ٹی ای اور جیٹ (JET) ایکٹ و رولز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔موجودہ اراکین نے ڈی سی سے مطالبہ کیا کہ نجی اسکولوں کو تحریری طور پر واضح ہدایت دیں کہ اینول فیس، ری ایڈمیشن فیس اور ڈیولپمنٹ فیس نہ لی جائے اور این سی ای آر ٹی کی کتابیں نافذ کی جائیں، ساتھ ہی ضرورت کے مطابق نجی پبلشرز کی وہ کتابیں دی جائیں جنہیں ہر سال بدلانہ جائے۔ اسکولوں کی من مانی پر روک تھام اور کارروائی کے لیے ہیلپ لائن نمبر کے ساتھ نوڈل آفیسر مقرر کیا جائے۔ اس موقع پر جھارکھنڈ چھاتر سنگھ کے جنرل سکریٹری رنجیت اوراؤں، امر کمار، عمران انصاری، محسن حواری، محمد معراج الدین، صہیب اختر، ابوالکلام، شیو کمار، عاقل اختر، منعم الحسن سمیت دیگر موجود تھے۔
