جدید بھارت نیوز سروس
جمشیدپور،11؍اپریل: جھارکھنڈ کے ہزاری باغ اور بوکارو میں بے نقاب ہونے والے ٹریژری گھوٹالے کے بعد جمشید پور انتظامیہ الرٹ موڈ میں ہے۔ ریاست کے کئی اضلاع میں مالی بے ضابطگیوں کے خدشات کے پیشِ نظر مشرقی سنگھ بھوم کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کرن ستیارتھی نے ہفتہ کے روز جمشید پور ہیڈ کوارٹر میں واقع ٹریژری کا اچانک معائنہ کیا۔ اس دوران انہوں نے خزانے سے رقم نکالنے کے عمل کو مکمل طور پر سخت کرنے کی ہدایات جاری کیں۔مشرقی سنگھ بھوم کے ڈی سی کرن ستیارتھی نے ٹریژری کا اچانک معائنہ کر کے وہاں کے طریقہ کار کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ٹریژری ضلع کے مالیاتی نظام کا مرکز ہے، اس لیے یہاں سے ہونے والی ہر نکاسی قوانین کے مطابق اور مکمل تصدیق کے بعد ہی ہونی چاہیے۔ معائنے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ٹریژری آفیسر کو ہدایت دی کہ ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسر (DDO) کی جانب سے بھیجے گئے ہر بل کی باریک بینی سے جانچ کی جائے۔ یہ یقینی بنایا جائے کہ تمام بل ٹریژری کوڈ کے قواعد کے مطابق ہوں اور الاٹمنٹ میں دی گئی ہدایات کے تحت ہی ادائیگی کی جائے۔ٹریژری گھوٹالے میں فرضی تنخواہوں کی نکاسی کے معاملات کو دیکھتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے تنخواہ اور اعزازیہ کی ادائیگی کے عمل کے حوالے سے خصوصی چوکسی اختیار کرنے کو کہا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ملازمین کے نام، عہدہ، تاریخِ پیدائش سمیت تمام تفصیلات کا آن لائن ریکارڈ یا سروس بک سے لازمی طور پر ملاپ کیا جائے۔ ساتھ ہی ادائیگی سے قبل یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ متعلقہ ملازم واقعی برسرِ خدمت ہے۔ بینک اکاؤنٹ کی تصدیق پاس بک یا چیک کی بنیاد پر کرنے اور پے سلپ کے ڈیٹا کی جانچ کے بعد ہی تنخواہ جاری کرنے کی ہدایات دی گئیں۔
