مطالبات پورے نہ ہونے پر ایک ماہ بعد صحت خدمات ٹھپ کرنے کی وارننگ
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 18 جنوری :۔انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) کی صوبائی ایگزیکٹو کمیٹی کی اتوار کو رانچی میں منعقدہ میٹنگ میں حکومتِ جھارکھنڈ کو سخت الٹی میٹم دیا گیا۔ میٹنگ میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اگر ریاست میں کلینیکل اسٹیبلشمنٹ ایکٹ میں اتر پردیش اور ہریانہ کی طرز پر ترمیم نہیں کی گئی اور ایک ماہ کے اندر میڈیکل پروٹیکشن ایکٹ نافذ نہیں ہوا تو ریاست بھر میں صحت خدمات کو ٹھپ کر دیا جائے گا۔
قانونی تحفظ کا مطالبہ
میٹنگ میں ڈاکٹروں کے تحفظ اور طبی اداروں کے بہتر نظم و نسق پر زور دیا گیا۔ آئی ایم اے کا کہنا تھا کہ موجودہ قوانین ناکافی ہیں، جس کے سبب ڈاکٹروں اور طبی اداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی بنیاد پر حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔
نئی کمیٹی اور کووڈ شہداء
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئی ایم اے کی نئی کمیٹی کے انتخاب کے لیے تین سینئر اراکین پر مشتمل ایک الیکشن کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جسے انتخاب کی مکمل ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کووڈ کے دوران خدمات انجام دیتے ہوئے جاں بحق ڈاکٹروں کو نظر انداز کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ڈاکٹر آر ایس داس کی قیادت میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو ریاست بھر میں مرحوم ڈاکٹروں کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے رپورٹ تیار کرے گی۔
زیر التوا معاملات اور حمایت
آئی ایم اے کے صوبائی صدر ڈاکٹر پردیپ سنگھ نے کہا کہ کورونا واریئر کہلانے والے ڈاکٹروں کے انتقال کے بعد ان کے اہل خانہ کی خبرگیری نہ ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔ میٹنگ میں جمشیدپور سے متعلق ایک زیر سماعت معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس میں متاثرہ ڈاکٹر رینوکا چودھری اور ان کے بیٹے کے ساتھ مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔
طلبہ کا وظیفہ مسئلہ
اجلاس میں ریاست کے میڈیکل طلبہ کو بروقت وظیفہ نہ ملنے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ آئی ایم اے نے مطالبہ کیا کہ تمام میڈیکل کالجوں کے طلبہ کو وقت پر اسٹائپینڈ ادا کیا جائے۔ میٹنگ میں ریاست بھر سے آئی ایم اے کے عہدیداران اور سینئر ڈاکٹر شریک ہوئے۔
