ریمس -2 ایشیا کا سب سے بڑا ہسپتال ہوگا، تعمیر اسی سال شروع ہوگی: عرفان انصاری
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 11 مارچ:۔ جھارکھنڈ اسمبلی میں بدھ کے روز صحت، خوراکی فراہمی اور آفاتِ انتظامیہ کے بجٹ پر پیش کی گئی کٹوتی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے وزیر صحت عرفان انصاری نے کہا کہ حکومت ریاست کے ہر شہری کو سستی، آسان اور بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز سینئر رہنما شبو سورین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا اور اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں میں صرف نو میڈیکل کالج قائم کیے گئے، جبکہ ہیمنت سورین کی حکومت ایک سال کے اندر آٹھ نئے میڈیکل کالج شروع کرنے جا رہی ہے۔سابق وزیر اعلیٰ بابولال مرانڈی کی جانب سے ریمس – 2 کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں وزیر نے کہا کہ اس منصوبے کی تعمیر ہر حال میں اسی سال شروع کر دی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں 1400 بستروں اور دوسرے مرحلے میں 2600 بستروں پر مشتمل جدید اسپتال کمپلیکس تیار کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ریاست میں صحت کے شعبے کے لیے 7,990 کروڑ روپے، خوراکی فراہمی کے لیے 2,887 کروڑ اور آفاتِ انتظامیہ کے لیے 1,859 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے پہلے مرحلے میں جامتاڑا، گریڈیہہ، دھنباد، کھونٹی اور سرائے کیلا- کھرسواں میں میڈیکل کالج قائم کیے جائیں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں گوڈا، صاحب گنج اور لاتےہار میں کالج کھولے جائیں گے۔وزیر نے اعلان کیا کہ تمام میڈیکل کالجوں میں ایم آر آئی مشینیں، 25 ہائی ٹیک ٹراما سینٹر اور 750 ابوا میڈیکل اسٹور قائم کیے جائیں گے۔ رانچی کے صدر اسپتال میں پہلی بار بون میرو ٹرانسپلانٹ کی سہولت بھی شروع کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے تمام اضلاع میں خون کی کمی (انیمیا) کی جانچ کی سہولت فراہم کی جائے گی اور حکومت کا ہدف ہے کہ 2029 تک جھارکھنڈ کو انیمیا سے پاک ریاست بنایا جائے۔ اس کے علاوہ حاملہ خواتین کے لیے مفت الٹراساؤنڈ کی سہولت بھی دی جائے گی۔عرفان انصاری نے دھان خریداری کے بارے میں بتایا کہ ریاست میں پہلی بار ون ٹائم دھان خریداری کا نظام شروع کیا گیا ہے اور اب تک 80 فیصد ہدف حاصل کیا جا چکا ہے، جبکہ جلد ہی 100 فیصد خریداری مکمل کر لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دھوتی ساڑی تقسیم اسکیم کے ذریعے غریبوں کو کپڑے بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
