رپورٹنگ ٹیبل تھپتھپانے پر اسپیکر برہم، نرمل مہتو ایوان سے باہر نکالے گئے
میز پٹخنے سے درد کم نہیں ہوتا: وزیر رادھا کرشن کشور کا اپوزیشن پر طنز
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،10؍مارچ: جھارکھنڈ اسمبلی کے بجٹ سیشن کے دوران منگل کو ایوان میں اس وقت زبردست ہنگامہ ہوا جب امن و امان اور انتظامی نظام کے معاملے پر اپوزیشن بی جے پی ارکانِ اسمبلی نے اسپیکر کی کرسی (آسن) کے قریب پہنچ کر احتجاج شروع کر دیا۔ ہنگامے کے درمیان آجسو (AJSU) رکن اسمبلی نرمل مہتو عرف تیواری مہتو کو مارشل آؤٹ کرنا پڑا، جس سے ایوان کا ماحول مزید گرم ہو گیا۔
درحقیقت، اپوزیشن لیڈر بابولال مرانڈی نے ریاستی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جھارکھنڈ میں منتخب حکومت نہیں بلکہ “بابوؤں کی حکومت” چل رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں مسلسل مجرمانہ واقعات ہو رہے ہیں اور انتظامی افسران غیر فعال بنے ہوئے ہیں۔ مرانڈی نے وقفہ سوالات ملتوی کر کے امن و امان کے مسئلے پر ایوان میں تفصیلی بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔
وزیر کا جوابی حملہ
حکومت کی جانب سے وزیر رادھا کرشن کشور نے اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن وقفہ سوالات نہ چلنے دینے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں انہوں نے یہ مسئلہ نہیں اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اپوزیشن سنجیدہ بحث نہیں چاہتی بلکہ صرف اخباروں کی سرخیاں بٹورنا چاہتی ہے۔ وزیر نے یہ بھی کہا کہ اگر کہیں بدعنوانی یا انتظامی غفلت کے ٹھوس معاملات ہیں تو اپوزیشن انہیں سامنے لائے، حکومت کارروائی کے لیے تیار ہے۔
ارکانِ اسمبلی کا آسن کے قریب پہنچنا، تناؤ میں اضافہ
بحث کے دوران صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب آجسو رکنِ اسمبلی نرمل مہتو عرف تیواری مہتو غصے میں آسن کے سامنے پہنچ گئے اور رپورٹنگ ٹیبل تھپتھپانے لگے۔ اس کے بعد ایوان میں شور و غل بڑھ گیا اور مارشلوں کو مداخلت کرنی پڑی۔ ہنگامے کے دوران تیواری مہتو کو ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔ اس کارروائی کے بعد اپوزیشن ارکان نے سخت احتجاج کیا اور حکمران جماعت پر ارکانِ اسمبلی کو اکسانے کا الزام لگایا۔
اسپیکر کا سخت تبصرہ
اسمبلی اسپیکر رابیندر ناتھ مہتو نے اس پورے واقعے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منتخب عوامی نمائندوں سے ایسے رویے کی توقع نہیں کی جاتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ رپورٹنگ ٹیبل کو پیٹنا غیر پارلیمانی طرز عمل ہے اور یہ ایوان کے وقار کے خلاف ہے۔ اسپیکر نے اپوزیشن لیڈر سے بھی اپنے رکنِ اسمبلی کے رویے پر توجہ دینے کو کہا۔
حکمران اور اپوزیشن جماعتیں آمنے سامنے
کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر پردیپ یادو نے تیواری مہتو کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وہیں بی جے پی رکن اسمبلی نوین جیسوال نے دعویٰ کیا کہ حکمران جماعت کے ارکان نے تیواری مہتو کو اکسایا، جس کی وجہ سے صورتحال بگڑی۔ وزیر سدیویہ کمار نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بار بار اپوزیشن ارکان سے اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی درخواست کی گئی، لیکن تیواری مہتو کا رویہ مناسب نہیں تھا اور بی جے پی ارکان کا ان کی حمایت کرنا بھی غلط ہے۔
بابولال مرانڈی کا جوابی وار
اس پر اپوزیشن لیڈر بابولال مرانڈی نے پھر جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت کے ارکان کے اکسانے کی وجہ سے ہی ایسی صورتحال پیدا ہوئی۔
وزیر کی نصیحت
بحث کے دوران وزیر رادھا کرشن کشور نے کہا کہ اسمبلی بہتر طریقے سے چل رہی ہے اور اس کے لیے اسپیکر شکریہ کے مستحق ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رجرپا معاملے میں حکومت نے ڈی جی پی کی ہدایت پر کارروائی بھی کی ہے۔ وزیر نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ میز پٹخنے سے درد کم نہیں ہوتا اور سیاست میں طرز عمل کی اہمیت ہوتی ہے۔ انہوں نے آجسو رکن اسمبلی کو اپنے رویے پر افسوس کا اظہار کرنے کی نصیحت بھی دی۔ اس مسئلے پر کافی دیر تک جاری رہنے والی بحث کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر رادھا کرشن کشور نے اسپیکر سے درخواست کی کہ آجسو رکنِ اسمبلی نرمل مہتو کو ایوان میں آنے کی اجازت دی جائے۔ ان کی درخواست کا احترام کرتے ہوئے اسپیکر نے نرمل مہتو کو ایوان میں آنے کی اجازت دے دی۔ تب جا کر معاملہ پرسکون ہوا اور وقفہ سوالات کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلی۔
