اساتذہ ذاتی خرچ سے اسکول چلانے پر مجبور، تنظیموں کا فوری اقدام کا مطالبہ
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 14 جنوری :۔ریاست کے پرائمری اور مڈل اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کے حوالے سے تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے۔ حکومت کی جانب سے ہر سال اسکول ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت دی جانے والی رقم رواں مالی سال میں اب تک جاری نہیں کی گئی، جس کے باعث اسکولوں کا نظام شدید طور پر متاثر ہو رہا ہے۔
تعلیمی و انتظامی کام متاثر
ترقیاتی فنڈ کی عدم دستیابی کے سبب اسکولوں میں تعلیمی اور انتظامی امور بری طرح متاثر ہو گئے ہیں۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کئی اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر اپنے گھریلو اخراجات میں کٹوتی کرکے بچوں کے رجسٹر، کیش بک، طلبہ و اساتذہ کی حاضری رجسٹر، میٹنگ بک، مڈ ڈے میل رجسٹر اور دیگر یومیہ ضروری سامان اپنی جیب سے خریدنے پر مجبور ہیں۔
یک معلمی اسکولوں کی حالت بدترین
سب سے زیادہ تشویشناک حالت یک معلمی اسکولوں کی ہے، جہاں پیرا اساتذہ کے ذریعے تدریسی عمل جاری ہے۔ محدود اعزازیہ پر کام کرنے والے ان اساتذہ کے لیے ذاتی اخراجات کے ساتھ اسکول چلانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں کئی اسکولوں کی حالت انتہائی خستہ ہو گئی ہے۔
بنیادی سامان کی شدید قلت
اسکولوں میں روزانہ بلیک بورڈ کے لیے کھلّی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ صفائی کے لیے جھاڑو، بیت الخلا کی صفائی کا سامان، ہاتھ دھونے کا صابن، تمام کلاسوں کے حاضری رجسٹر، کیش بک، مڈ ڈے میل رجسٹر، لیجر بک، میٹنگ بک سمیت ہر سال تقریباً 40 سے 45 اقسام کے ریکارڈ رجسٹر کی خرید لازمی ہے۔ ترقیاتی فنڈ نہ ملنے کے باعث اسکول عمارتوں کی رنگ و روغن بھی نہیں ہو پا رہی، جس سے کئی اسکول گندے اور خستہ حال نظر آ رہے ہیں۔
اساتذہ تنظیم کا بیان
آل جھارکھنڈ پرائمری ٹیچر ایسوسی ایشن کے چیف صوبائی ترجمان نسیم احمد نے کہا کہ اساتذہ اپنی سطح پر ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، لیکن اگر جلد رقم جاری نہ کی گئی تو کھلّی کے فقدان میں بلیک بورڈ پر پڑھائی ٹھپ ہو سکتی ہے۔ یہ صورتحال غریب اور محروم طبقے کے بچوں کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ محکمہ کا موجودہ رویہ لاپروائی کا مظہر دکھائی دیتا ہے۔
