محمد دیپک کو اپنی تنخواہ سے دیں گے 2 لاکھ روپے
جدید بھارت نیوز سروس
جامتاڑا،3؍فروری: ملک میں جہاں ایک طرف نفرت کا زہر پھیلانے کی مسلسل کوششیں ہو رہی ہیں، ایسے وقت میں اتراکھنڈ کے دیپک نے انسانیت، بھائی چارے اور محبت کی جو مثال پیش کی ہے، اس نے پورے ہندوستان کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دیپک، جنہوں نے اپنا نام ’محمد دیپک‘ رکھا، ان کے اس جذبے، ہمت اور دلیری کو جھارکھنڈ حکومت کے وزیر ڈاکٹر عرفان انصاری نے کھلے دل سے سلام کیا ہے۔ڈاکٹر عرفان انصاری نے واضح الفاظ میں کہا کہ “میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں ہماری لڑائی کسی ہندوستانی سے نہیں ہے۔ ہماری لڑائی اس برطانوی سوچ سے ہے جس نے ہمارے آباؤ اجداد کو بے رحمی سے کچلا، مارا اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا۔”انہوں نے کہا کہ دیپک نے آزادی کے اسی اصل معنی اور اس جدوجہد کے جذبے کو آج پھر زندہ کر دیا ہے۔ڈاکٹر انصاری نے اعلان کیا کہ وہ اپنی چار ماہ کی تنخواہ میں سے 200000 روپے دیپک کو دیں گے۔انہوں نے کہا کہ “رقم بھلے ہی چھوٹی ہو، لیکن یہ دیپک کے حوصلے کو سلام ہے اور ان کے مورال کو مضبوطی دے گی۔ یہ ایک صاف پیغام ہے کہ ہندوستان کی روح نفرت نہیں بلکہ محبت ہے۔”واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ جس طرح بجرنگ دل کے کچھ لوگوں نے ایک غریب کپڑا بیچنے والے پر حملہ کیا، اس وقت دیپک نے آگے بڑھ کر ایک مسلم بزرگ کی جان بچائی۔انہوں نے بتایا کہ اسی وقت دیپک نے بے خوف ہو کر کہا کہ “میں دیپک ہوں، میں دیپک محمد ہوں،”اور اکیلے دم پر نفرت پھیلانے والوں کو وہاں سے کھدیڑ دیا۔ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ دیپک نے جو کیا، وہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ گنگا جمنی تہذیب کی ایک گہری اور تاریخی لکیر ہے، جو آنے والی نسلوں کو ترغیب دیتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ “جب دیپک کھلے عام کہتا ہے ’میں دیپک محمد ہوں‘، تو یہی اس ملک کی اصل خوبصورتی سامنے آتی ہے۔ نفرت پھیلا کر سیاست کی روٹیاں سینکنے والوں کے منھ پر یہ ایک زوردار طمانچہ ہے۔”ڈاکٹر عرفان انصاری نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ “آج دیپک نے یہ ثابت کر دیا کہ آخر کار نفرت پر ہمیشہ محبت ہی جیتتی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ “آج کے دور میں دیپک نے جو ہمت اور انسانیت دکھائی ہے، وہ بہادری سے کم نہیں۔ میں انہیں دل سے سلوٹ کرتا ہوں۔”اتنا ہی نہیں، ڈاکٹر انصاری نے یہ بھی اعلان کیا کہ جلد ہی دیپک کو جھارکھنڈ بلایا جائے گا اور وہ خود اپنے ہاتھوں سے انہیں اعزاز سے نوازیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز صرف ایک شخص کا نہیں بلکہ اس سوچ کا ہوگا جو ملک کو جوڑتی ہے، توڑتی نہیں۔ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ “سچے ہندوستانی کے خون میں نفرت نہیں ہوتی۔ سچا ہندوستانی محبت کرتا ہے، اپنوں سے محبت کرتا ہے اور محبت کا پیغام پھیلاتا ہے۔”آج دیپک پورے ملک کے لیے ایک پیغام ہیں ۔
