نامکم میں بین الاقوامی یوم خواتین کے موقع پر دو روزہ کسان میلہ اور زرعی نمائش کا افتتاح
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،8؍مارچ: وزیر برائے زراعت، حیوانات اور تعاون، شلپی نیہا ترکی نے کہا ہے کہ اپنی آمدنی کے ذرائع کو ہمہ جہت بنانا اور ان میں تنوع لانا کسانوں کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔ شلپی ترکی نے کہا کہ خاص طور پر خاتون کسان نہ صرف اپنے گھر، خاندان یا معاشرے بلکہ پورے جھارکھنڈ اور ملک کی ترقی میں اپنا اہم اور قابلِ ستائش تعاون پیش کر رہی ہیں اور انہیں اپنی کوششوں، جدوجہد اور شراکت کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔آج دارالحکومت رانچی کے نامکم میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سیکنڈری ایگریکلچر میں بین الاقوامی یوم خواتین کے موقع پر منعقدہ دو روزہ ‘کسان میلہ اور زرعی نمائش 2026’ کا افتتاح کرتے ہوئے شلپی نیہاترکی نے جھارکھنڈ کی خاتون کسانوں کی کوششوں اور جدوجہد کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں ان کا گراں قدر تعاون ہے اور کسانوں، بالخصوص خواتین نے اپنی محنت کے بل بوتے پر زراعت اور کاروبار کو ترقی دے کر بطور کاروباری (Entrepreneur) جو شناخت بنائی ہے، اسے مزید فروغ دیا جانا چاہیے۔ شلپی نیہاترکی نے کہا کہ ہیمنت حکومت خواتین کی معاشی خوشحالی، سماجی ترقی اور ان میں بااختیار ہونے کے احساس کو مضبوط کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘مکھیا منتری مییا سمان یوجنا‘ایک ایسی اہم علامت ہے جو آدھی آبادی کے تئیں حکومت کے عزم کو ظاہر کرتی ہے، اور حکومت ہر شعبے میں مشن موڈ میں ترقی کے نئے معیار قائم کر رہی ہے۔اس موقع پر اپنے خطاب میں مہمانِ خصوصی اور محکمہ زراعت، حیوانات اور تعاون کے سکریٹری ابوبکر صدیقی نے کسانوں کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے چلائی جا رہی مختلف اسکیموں کی معلومات دیں اور کسانوں سے ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی اپیل کی۔آئی سی اے آر-نیسا کے ڈائریکٹر ابھیجیت کر نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ دیہی صنعت، سرکلر فارمنگ اور جدید زرعی تکنیکوں کو اپنا کر کسانوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ کسانوں کے مفاد میں مختلف تحقیقی اور تکنیکی اختراعات پر مسلسل کام کر رہا ہے۔ تقریب میں سینئر سائنسدان جیوتی مئے گھوش اور دیبا بندیا مہاپاترا نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔آج منعقدہ اس نمائش میں لگائے گئے تقریباً 40 اسٹالز کا کسانوں نے جوش و خروش سے معائنہ کیا۔ یہ اسٹالز مختلف زرعی ترقیاتی اداروں، زرعی یونیورسٹیوں، سرکاری محکموں، کوآپریٹو تنظیموں اور سیلف ہیلپ گروپس کی جانب سے لگائے گئے تھے، جن میں جدید زرعی مشینری، مصنوعات اور باغبانی سے متعلق تکنیکوں کی نمائش کی گئی۔ اس موقع پر زراعت کے شعبے میں بہترین کارکردگی دکھانے والے ترقی پسند کسانوں کو اعزاز سے نوازا گیا اور مختلف مقابلوں کے فاتحین کو انعامات دیے گئے۔ پروگرام میں نامور سائنسدانوں، ماہرین اور 1500 سے زائد کسانوں نے شرکت کی۔
