پاکستان اور بنگلہ دیش کے شہریوں کی جائیداد کی ای-آکشن میں فروخت کی تیاریاں
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 14 فروری:۔ بھارت میں جنگ کے دوران دشمن ملک میں فرار ہونے والے شہریوں کی جھارکھنڈ میں موجود جائیداد کی نیلامی کا عمل شروع ہونے والا ہے۔ اس نیلامی کے دوران جائیداد کے پہلے اندراج (First Registration) پر اسٹامپ فیس کی چھوٹ دینے کے لیے مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت سے درخواست کی ہے تاکہ خریداروں کے لیے آسانی پیدا ہو۔
CEPI کے ذریعے جائیداد کا انتظام
بھارت حکومت کے محکمہ داخلہ کے تحت کام کرنے والا Custodian of Enemy Property for India (CEPI) ریاست حکومت سے رابطے میں ہے۔ CEPI ایک قانونی ادارہ ہے جو Enemy Property Act 1968 کے تحت ان شہریوں کی جائیداد کے تحفظ، انتظام اور فروخت کے لیے ذمہ دار ہے جو جنگ کے دوران بھارت چھوڑ کر دشمن ممالک میں جا بسے۔ CEPI اس جائیداد کو ای-آکشن کے ذریعے مو نیٹائز کر رہا ہے تاکہ فروخت کے عمل میں شفافیت اور آسانی ہو۔
اسٹامپ فیس میں چھوٹ کی تجویز
اس جائیداد کے فروخت کو فروغ دینے کے لیے مرکزی حکومت نے سفارش کی ہے کہ پہلی رجسٹریشن پر اسٹامپ فیس معاف کی جائے اور CEPI سے جاری ہونے والے فروختی سرٹیفکیٹ کے ذریعے خریدار کے حق میں تمام قانونی کارروائی مکمل کی جائے۔ اس اقدام سے خریداروں کے لیے جائیداد حاصل کرنا آسان ہوگا اور نیلامی کا عمل زیادہ فعال ہو گا۔
پاکستان و بنگلہ دیش کے شہریوں کی جائیداد
تخمینے کے مطابق جھارکھنڈ میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے شہریوں کی جائیداد موجود ہے۔ 1965 اور 1971 کے بھارت-پاکستان جنگ کے دوران بہت سے دشمن ملک کے شہری بھارت چھوڑ کر واپس گئے تھے۔ 1971 کی جنگ کے بعد مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ ان جنگوں کے دوران فرار ہونے والے شہریوں کی جائیداد وقت کے ساتھ خرید و فروخت کے عمل میں شامل ہو گئی تھی، تاہم حکومت اب اسے منظم نیلامی کے ذریعے فروخت کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔
