وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے محکمۂ تعلیم کی تجویز کو منظوری دے دی
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 2 جنوری:۔ مالی اعانت سے محروم اور امداد یافتہ انٹر کالجوں میں داخلہ لے چکے تقریباً 50 ہزار طلبہ کے لیے بڑی راحت کی خبر ہے۔ وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے سیٹوں میں اضافے کے تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ محکمۂ اسکولی تعلیم اس سلسلے میں جلد ہی باضابطہ حکم نامہ جاری کرے گا، جس کے بعد 2025-27 سیشن کے لیے مقررہ تعداد سے زائد داخلہ لینے والے انٹر کالجوں میں طلبہ کی رجسٹریشن ممکن ہو سکے گی۔
فنِونِ علوم کے مقابلے فنِونِ ادب میں زیادہ سیٹوں کا امکان
اندازہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سائنس کے مقابلے آرٹس فیکلٹی میں زیادہ سیٹیں بڑھائی جائیں گی۔ 2025-27 سیشن کے دوران تقریباً 40 مالی اعانت سے محروم انٹر کالجوں نے مقررہ حد سے کہیں زیادہ داخلے لیے تھے۔ ضابطے کے مطابق ہر فیکلٹی میں 128 سیٹوں پر داخلہ ہونا تھا، مگر کئی کالجوں میں تین سے پانچ گنا تک طلبہ کو داخلہ دے دیا گیا تھا۔ ان اداروں نے جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل (جے اے سی) سے اجازت ملنے کی امید میں یہ داخلے کیے تھے۔
رجسٹریشن میں تاخیر سے طلبہ کا مستقبل خطرے میں
اگرچہ 18 دسمبر سے رجسٹریشن کا عمل شروع ہو چکا تھا، لیکن جیک کی جانب سے اب تک اجازت نہ ملنے کے باعث ہزاروں طلبہ و طالبات کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا تھا۔ اب سیٹوں میں اضافے کی منظوری کے بعد رجسٹریشن کا راستہ صاف ہونے کی امید ہے۔
تعلیمی محکمہ کو مکمل رپورٹ ارسال
جیک کے صدر نتوا ہانسدا نے بتایا کہ طلبہ سے متعلق مکمل رپورٹ محکمۂ تعلیم کو بھیج دی گئی تھی اور سیٹوں میں اضافے کی درخواست کی گئی تھی، جس پر اب منظوری مل گئی ہے۔
40 اداروں میں مقررہ حد سے زیادہ داخلے
ریاست کے 40 سے زائد مالی اعانت سے محروم انٹر کالجوں میں 2025-27 سیشن کے لیے مقررہ سیٹوں سے زیادہ داخلے کیے گئے تھے، جس سے تقریباً 50 ہزار طلبہ متاثر ہوئے۔ کئی اداروں میں اس مسئلے کو لے کر ہنگامے کی صورتحال بھی پیدا ہو گئی تھی۔ ریاست میں کل 195 منظور شدہ انٹر کالج ہیں، جبکہ 50 سے زائد ایسے ادارے ہیں جنہیں قیام کی اجازت حاصل ہے۔ ان میں سے قریب 40 کالجوں میں رجسٹریشن نہ ہونے کے سبب طلبہ کی مشکلات بڑھ گئی تھیں۔
ڈی ای او کی جانچ رپورٹ پہلے ہی جمع
مختلف اضلاع کے ضلع تعلیمی افسران (ڈی ای او) نے ستمبر اور اکتوبر میں ان کالجوں کی زمینی جانچ کر کے اپنی رپورٹ جیک کو سونپ دی تھی۔ جیک کی ہدایت پر یہ جانچ اس بات کے لیے کی گئی تھی کہ متعلقہ اداروں میں بنیادی ڈھانچہ اور تدریسی سہولیات مناسب ہیں یا نہیں۔
