ہومJharkhandمنریگا کا نام بدلنے پر کانگریس برہم

منریگا کا نام بدلنے پر کانگریس برہم

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

مرکز کے خلاف ’منریگا بچاؤ سنگرام ‘کا اعلان، کل سے تحریک کا آغاز

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،03؍جنوری: وفاقی حکومت کی جانب سے منریگا (MNREGA) کی جگہ “جی رام جی” کے نام سے نئی اسکیم لانے کے اقدام کے خلاف کانگریس نے آر پار کی لڑائی کا اعلان کر دیا ہے۔ پردیش کانگریس صدر کیشو مہتو کملیش نے کانگریس کے ‘منریگا بچاؤ سنگرام کے شیڈول کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ 5 جنوری کو مورہابادی میدان میں باپو واٹیکا میں منریگا مزدوروں کے ساتھ عزم لینے کے بعد لوک بھون کے سامنے ایک بڑے احتجاج سے اس جدوجہد کا آغاز ہوگا۔
بی جے پی کا مہاتما گاندھی مخالف کردار بے نقاب :پردیش کانگریس صدر
پردیش کانگریس صدر نے کہا کہ بی جے پی کا بابائے قوم مہاتما گاندھی مخالف کردار بے نقاب ہو گیا ہے۔ 5 جنوری کو لوک بھون کے سامنے ہونے والے مظاہرے میں کانگریس کے ریاستی انچارج کے. راجو، دونوں شریک انچارج، تمام وزراء، ارکان اسمبلی، کانگریس رہنما اور منریگا کارکن باپو واٹیکا سے لوک بھون تک مارچ کریں گے۔ پرنب جھا بھی اس پروگرام میں موجود رہیں گے۔
کیشو مہتو کملیش نے کہا کہ وفاقی حکومت نے نہ صرف روزگار کی ضمانت دینے والی اس اسکیم کا نام بدلاہے بلکہ دیہی بھارت کی ترقی اور حقوق پر بھی حملہ کیا ہے۔ پہلے یہ منصوبہ گرام پنچایت بناتی تھی، لیکن اب یہ وفاق کے بجٹ کے مطابق بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم مودی نے 2015 میں بھی منریگا کی تنقید کی تھی اور اسے ختم کرنے کا ان کا منصوبہ پہلے سے ہی تھا۔ کورونا وبا کے دوران اسی منریگا نے مزدوروں کی ہجرت کو روکا تھا۔ پہلے منریگا مزدوروں کو عام طریقے سے ان کی مزدوری ملتی تھی، لیکن اب فنگر پرنٹ اور بائیو میٹرکس کے ذریعے ادائیگی ہوگی، جس سے مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔
بی جے پی کا نظریہ گاندھی جی کے نظریے کے الٹ : وزیر رادھا کرشن کشور
وزیر خزانہ رادھا کرشن کشور نے کہا کہ جب یہ قانون مہاتما گاندھی کے نام پر بنا تھا، تو اسے بدل کر “جی رام جی” کرنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی کا نظریہ گاندھی جی کے نظریے کے الٹ ہے۔ نریندر مودی پہلے سے ہی گاندھی جی اور ان کے نظریے کو نہیں مانتے تھے اور اب بھی نہیں مانتے۔ انہوں نے کہا کہ منریگا کی جگہ “جی رام جی” نام رکھ کر بی جے پی یہ دکھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ ہندوتوا کی سب سے بڑی علمبردار پارٹی ہے، لیکن وہ بھول گئی کہ ملک کی ریاستوں میں کتنی ناہمواری ہے۔ چند ریاستوں کو چھوڑ کر باقی ریاستوں پر اس منصوبے کے لیے اضافی مالی بوجھ ڈالاگیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ہمیں ہمارے حق کا پیسہ دے، ہم ریاست میں روزگار کی ضمانت کی اسکیم خود چلا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مریادہ پرشوتم شری رام جی کا بھی یہی نظریہ تھا اور گاندھی جی کا بھی یہی نظریہ تھا۔ ہم کوئی سیاست نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نام مت بدلو، خامیاں دور کرو۔ کانگریس نے اپنے 11 سالہ دور حکومت میں جتنی بڑی لکیر کھینچی ہے، آپ اس سے بڑی لائن نہیں کھینچ پائے ہیں۔ 40:60 کے تناسب پر انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ ہونے کے ناطے ہم پرعزم ہیں، بھیک نہیں مانگیں گے، ہمارا حق دے دیں۔
منریگا دستور میں روزگار کے بنیادی حق کی کمی کو پورا کرتا ہے : رامیشور اوراؤں
سابق وزیر خزانہ اور لوہردگا سے کانگریس رکن اسمبلی رامیشور اوراؤں نے کہا کہ جب منریگا بل پارلیمنٹ سے پاس ہوا تھا، تب وہ ایوان میں موجود تھے۔ اس وقت سب نے اس کی تعریف کی تھی کیونکہ یہ دستور کے بنیادی حقوق میں روزگار کے حق کے شامل نہ ہونے کی کمی کو دور کرنے والا تھا۔ اگر اسے آئین میں شامل کیا گیا ہوتا تو بہتر ہوتا، لیکن چونکہ ایسا نہیں ہوا، اس لیے منریگا نے اس کمی کو پورا کیا۔ رامیشور اوراؤں نے کہا کہ وہ طالب علمی کے زمانے سے ہی منریگا جیسی اسکیم کے حامی رہے ہیں۔
انہوں نے “جی رام جی” اسکیم کی خامیاں بتاتے ہوئے کہا کہ بارش کے موسم میں کام نہیں ملے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جھارکھنڈ حکومت نے بارش کے موسم میں بھی منریگا کے تحت کئی کام کیے جس سے دیہی آبادی کو کام ملا۔ جب بارش میں مزدوروں کو کوئی کام نہیں ملتا، تو منریگا سے انہیں روزگار ملتا تھا۔ چند ریاستوں کو چھوڑ کر تمام ریاستیں غریب ہیں، اس لیے 40:60 کا تناسب لاگو کرنے میں عملی مشکلات ہیں۔ کھونٹی میں جس کرپشن کے معاملے کی بات بی جے پی رہنما کر رہے ہیں، وہ انہی کے دور حکومت میں ہوا۔ قانون میں ترمیم کی جا سکتی تھی لیکن یہاں منریگا کو ہی ختم کر دیا گیا۔ مہاتما گاندھی سے اتنی چڑ کیوں؟
منریگا بچاؤ سنگرام کا شیڈول
07 یا 08 جنوری 2026: تیاری کمیٹی کا ملک گیر اجلاس۔
10 جنوری: تمام ضلعی کانگریس کمیٹی کے دفاتر میں ضلع سطحی پریس کانفرنس۔
11 جنوری: تمام اضلاع کے ہیڈ کوارٹرز میں باپو یا امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے منریگا مزدوروں کے ساتھ پواس /فاقہ کشی۔
12 جنوری سے 30 جنوری: پنچایت کی سطح پر چوپال کا انعقاد، پردیش صدر اور لیڈر آف اپوزیشن کا خط اور پمفلٹ تقسیم کیے جائیں گے۔
30 جنوری: وارڈ کی سطح پر دھرنا۔
31 جنوری سے 06 فروری: ضلع کی سطح پر ڈی ایم یا ڈی سی دفتر کے سامنے منریگا بچاؤ دھرنا۔
07 سے 15 فروری: اسمبلی کا ریاستی سطحی گھیراؤ۔
16 سے 25 فروری: ملک کو چار زون میں بانٹ کر تحریک چلائی جائے گی۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version