کھگیندر ٹھاکر کی رحلت فکری و ادبی تحریک کیلئے بڑا نقصان: اجے سنگھ
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،13 جنوری :ہندی ادب کے نامور اور ممتاز نقاد ڈاکٹر کھگیندر ٹھاکر کی چھٹی برسی کے موقع پر سی پی آئی کے ریاستی دفتر کے آڈیٹوریم میں ایک تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ان کی تصویر پر گلہائے عقیدت پیش کر کے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ پھول نچھاور کرنے کے بعد تعزیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی ایگزیکٹو ممبر اور ضلعی سکریٹری اجے سنگھ نے کہا کہ ان کی رحلت سے ملک اور ریاست جھارکھنڈ میں فکری تحریک کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ سماجی واقعات پر مسلسل لکھنے والے مصنفین کی کمی واقع ہوئی ہے۔لیکن وہ اپنے پیچھے کئی ایسے دانشور مصنفین چھوڑ گئے ہیں جو وقتاً فوقتاً ان کی تحریروں اور خیالات کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔ اس لیے ہم یہ گزارش کرتے ہیں کہ کھگیندر جی کو سچی خراجِ عقیدت تبھی ہوگی جب ان جیسے نڈر اور بے باک لکھنے والے قلمکار اور عام عوام سامنے آئیں گے۔ عالمگیریت کے اس دور میں کھگیندر جی کے افکار آج اور بھی زیادہ بامعنی ہیں۔انہیں ہندی ادب کی مختلف اصناف میں ان کی ادبی خدمات کے لیے جانا جاتا ہے۔ وہ تنقید، طنز و مزاح، شاعری اور یاداشتوں (سوانح) کے میدان میں سرگرم رہے۔ کھگیندر ٹھاکر کا رخصت ہونا ہندی ادب کے لیے ایک بہت بڑا خسارہ ہے۔ ان کی شخصیت ایسی تھی جس میں کسی کی مداخلت کی گنجائش نہیں تھی۔ ہ ہمیشہ کھلے دل کے مالک رہے اور اپنی نجی زندگی کو کبھی عوامی معاملات میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔اس موقع پر خاص طور پر ریاستی سکریٹری مہیندر پاٹھک، ضلع سکریٹری اجے سنگھ، کرن کماری، ارون گپتا، وریندر وشوکرما، منوج ٹھاکر، شیامل، بھارتی جی، وجے ورما، راجیش یادو، یوگیندر بینی کے علاوہ درجنوں دیگر موجود تھے۔
