جدید بھارت نیوز سروس
بوکارو،15؍جنوری:۔ کامریڈمہندر سنگھ محض ایک فرد نہیں، بلکہ جھارکھنڈ اور ہندوستان کے محنت کش عوام کا زندہ شعور تھے۔ کھیت، جنگل، کانیں، کارخانے اور اسمبلی—آپ ہر اس جگہ موجود تھے جہاں استحصال کے خلاف مزاحمت جنم لیتی ہے۔ آپ کی شہادت عوام کی آواز کو کچلنے کی ایک منظم سازش تھی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایسی سازشیں انقلاب کی آگ کو مزید تیز کرتی ہیں۔آپ کا شعری مجموعہ ‘قیمت چکاتی زندگی‘ ان لوگوں کے نام منسوب ہے جو محبت اور آزادی کے لیے جیے اور مر گئے۔ آپ کی نظم ‘امیدیں‘ میں موجود ‘زرد جادوئی روشنی‘ آج بھی مظلوموں کی جدوجہد کی صبح کا پیش خیمہ ہے۔16 جنوری کو آپ کا بہیمانہ قتل اس نفرت کی علامت تھا جو سرمایہ دارانہ گٹھ جوڑ اور فسطائیت، جھارکھنڈ کے قبائلیوں اور مزدوروں کے خلاف رکھتی ہے۔ 1954 میں ایک کسان خاندان میں پیدا ہونے والے مہندر سنگھ نے مارکسی نظریات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ آپ کی شریک حیات شانتی دیوی اور بیٹے ونود سنگھ نے اس انقلابی وراثت کو آگے بڑھایا۔1970 کی دہائی میں سی پی آئی (ایم ایل) سے وابستہ ہو کر آپ نے بگودر سے بوکارو تک غریب مزدوروں کو منظم کیا۔ جیل کی صعوبتیں ہوں یا اسمبلی کے ایوان، آپ نے ہر جگہ استحصالی نظام کو بے نقاب کیا۔ 1990، 1995 اور 2000 میں رکن اسمبلی منتخب ہو کر آپ نے پارلیمانی پلیٹ فارم کو عوام کا ہتھیار بنایا۔ زمین کی لوٹ کھسوٹ اور فلاحی منصوبوں میں بدعنوانی کے خلاف آپ کی آواز نے اقتدار کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔تپکارا اور لیواٹانڈ جیسے گولی کانڈ ہوں یا کوئلہ کان کنی کے مزدوروں کی لڑائی، آپ ہمیشہ صف اول میں رہے۔ آپ نے بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کا منطقی جواب دیا اور بائیں بازو کی جمہوری وحدت کے علمبردار رہے۔ آج بھی آپ کی وراثت ہر زمینی جدوجہد، مزدور ہڑتال اور اس روشن صبح میں زندہ ہے جو تاریک رات کے بعد ضرور آتی ہے۔ کامریڈمہندر سنگھ، آپ کی شہادت انقلاب کا ابدی نور ہے۔
