لولو گروپ جھارکھنڈ کے زرعی اور جنگلاتی مصنوعات کو دنیا بھر کے بازاروں تک پہنچائے گا
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی؍داووس، 21 جنوری:۔ داووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے دوران وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے وِیل اسپن ورلڈ کے بانی و چیئرمین بی کے گوئنکا کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وِیل اسپن ورلڈ نے جھارکھنڈ میں پلاستک صنعت کے شعبے میں تقریباً 300 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ پیش کیا۔ وزیر اعلیٰ کے قیادت میں ریاستی وفد نے وِیل اسپن کے نمائندوں کو دیو گھر میں مجوزہ پلاستک پارک کی تفصیلات اور سرمایہ کاری کی ممکنہ سہولیات سے آگاہ کیا۔ وِیل اسپن کی ٹیم جلد ہی جھارکھنڈ کا دورہ کرے گی تاکہ مقامی سطح پر جائزہ اور تفصیلی مطالعہ کیا جا سکے۔ وِیل اسپن نے جھارکھنڈ میں اہم معدنیات اور لاجسٹکس شعبے میں بھی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس ملاقات کو صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور اقتصادی ترقی کی نئی رفتار دینے والے اہم اقدامات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
لولو گروپ کی جھارکھنڈ میں دلچسپی
اسی فورم کے دوران وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے لولو گروپ کے بانی و مینیجنگ ڈائریکٹر یوسف علی سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر یوسف علی نے جھارکھنڈ کی زرعی اور جنگلاتی پیداوار کو عالمی اور ملکی مارکیٹ تک پہنچانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔ لولو گروپ نے جھارکھنڈ میں تیار ہونے والی مصنوعات میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور بتایا کہ یہ اشیاء گروپ کی ویلیو چین کا حصہ بن سکتی ہیں۔ گروپ نے ریاست میں ‘صلاحیت سازی ‘ کے شعبے میں تعاون کی خواہش بھی ظاہر کی۔
جھارکھنڈ کو پرائمری سپلائر بنانے کی کوشش
ملاقات میں دونوں طرف سے یہ عزم کیا گیا کہ لولو گروپ کے اعلیٰ سطحی وفد جلد ہی جھارکھنڈ کا دورہ کرے گا تاکہ مصنوعات کا مطالعہ اور مقامی استعداد کار کا جائزہ لیا جا سکے۔ حکومت جھارکھنڈ کی کوشش کر رہی ہے کہ ریاست لولو گروپ کی ‘پرائمری سپلائر ‘ بنے، جس سے مقامی کسان، سیلف ہیلپ گروپ کی خواتین اور جنگلاتی پیداوار سے وابستہ افراد کو فائدہ حاصل ہو۔
مستقبل کے اقدامات اور اقتصادی مواقع
دونوں ملاقاتوں میں صنعتی سرمایہ کاری اور عالمی مارکیٹ تک رسائی کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرائی کہ جھارکھنڈ میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول موجود ہے اور ریاستی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ یہ اقدام نہ صرف ریاست کو صنعتی سرمایہ کاری کا مرکز بنائے گا بلکہ روزگار کے مواقع بڑھانے اور اقتصادی ترقی کی راہیں بھی ہموار کرے گا۔
