سماجی ہم آہنگی اجلاس میں شرکت، چیتن ٹوڈو متفقہ طور پر منتخب؛ ترقیاتی امور اور عوامی مسائل پر بھی گفتگو
جدید بھارت نیوز سروس
رام گڑھ، 16 فروری:۔ ہیمنت سورین سوموار کے روز اپنے آبائی گاؤں نیمرا پہنچے جہاں انہوں نے روایتی سماجی ہم آہنگی اجلاس میں شرکت کی۔ گاؤں آمد پر مقامی باشندوں نے روایتی رسم و رواج کے مطابق ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ ضلع انتظامیہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
سماجی اتحاد اور ترقیاتی امور پر زور
وزیر اعلیٰ نے دیہی عوام سے ملاقات کر ان کا حال دریافت کیا اور سماجی یکجہتی، بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اجلاس کے دوران گاؤں اور اطراف کے علاقوں کی ترقی سے متعلق مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بڑی تعداد میں دیہاتی اس پروگرام میں شریک ہوئے۔
سنتھالی روایت کے تحت نائکے بابا کا انتخاب
نیمرا گاؤں میں سنتھالی سماج کی روایتی ’کُٹھ کٹی‘ رسم کے تحت نائکے بابا (پاہن) کے انتخاب کی کارروائی وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں مکمل ہوئی۔ انہوں نے انتخابی عمل کی صدارت کرتے ہوئے ابتدا سے اختتام تک سرگرم حصہ لیا۔ سابق نائکے بابا سوہن سورین کے رضاکارانہ استعفیٰ کے بعد یہ عہدہ خالی ہوا تھا۔
چیتن ٹوڈو کو ذمہ داری سونپی گئی
عام اتفاق رائے سے چیتن ٹوڈو کو نائکے بابا منتخب کیا گیا۔ انہیں روایتی پگڑی اور ہتھیار پہنا کر باقاعدہ ذمہ داری سونپی گئی۔ اب وہ گاؤں کے دیوی دیوتاؤں کی پوجا اور سماجی و ثقافتی رسومات کی نگرانی کریں گے۔ اس موقع پر دیگر منتخب عہدیداران میں مانجھی بابا ہیمنت سورین، پرانک بابا برجُو سورین، بھودرَان بابا سکھدیو کسکو، کُڑام نائکے چھٹو بیسرا اور جوگ مانجھی وشوناتھ بیسرا شامل ہیں۔
روایت اور انتظامیہ کے تال میل کا پیغام
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اپنے گھر اور جائے پیدائش پر آئے ہیں اور گاؤں و سماج کے ساتھ بیٹھک کرنا ایک قدیم روایت ہے۔ نیمرا کے مکھیا جیت لال ٹوڈو نے بتایا کہ نائکے بابا کا انتخاب مکمل اتفاق رائے سے کیا گیا اور روایت کے مطابق انہیں منصب سونپا گیا۔ وزیر اعلیٰ کی موجودگی نے روایت اور انتظامیہ کے باہمی تال میل کا مضبوط پیغام دیا۔
رشتہ داروں سے ملاقات اور عوامی مسائل پر ہدایات
دورے کے دوران وزیر اعلیٰ نے اپنے چچا شری کانت سورین سے ملاقات کر ان کی علالت کا حال جانا اور سول سرجن کو مناسب علاج اور باقاعدہ نگرانی کی ہدایت دی۔ انہوں نے گاؤں کے لوگوں کے مسائل سن کر متعلقہ افسران کو ان کے حل کے لیے اقدامات کرنے کی بھی تاکید کی۔
وزیر اعلیٰ کی آمد کے پیش نظر گاؤں اور اطراف میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ ضلع کے اعلیٰ انتظامی اور پولیس افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
