پہلی بار کسی قبائلی منتخب رہنما پیش کیا گیا یہ اعزاز؛ جھارکھنڈ کے لیے ایک قابل فخر لمحہ
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 20 جنوری :۔وزیر اعلیٰ جھارکھنڈ ہیمنت سورین نے عالمی سطح پر ایک تاریخی کارنامہ انجام دیتے ہوئے بھارت سے پہلے قبائلی منتخب رہنما کے طور پر ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ میٹنگ، داؤس میں شرکت کی۔ یہ موقع نہ صرف جھارکھنڈ بلکہ پورے ملک کے لیے فخر کا باعث ہے۔ جھارکھنڈ میں ان کی قیادت میں جاری تبدیلی پسند اقدامات اور ترقیاتی کاموں کو عالمی سطح پر سراہا گیا، جس کے اعتراف میں ورلڈ اکنامک فورم کے نمائندوں نے وزیر اعلیٰ کو معزز وائٹ بیج سے نوازا۔ یہ اعزاز عموماً سربراہانِ مملکت اور حکومتوں کو دیا جاتا ہے اور جھارکھنڈ کے لیے ایک غیر معمولی اعزاز تصور کیا جا رہا ہے۔
وائٹ بیج کی عالمی اہمیت
وائٹ بیج ایک نہایت خصوصی اعزاز ہے جو عالمی سطح پر منتخب رہنماؤں کو عطا کیا جاتا ہے۔ اس بیج کے ذریعے متعلقہ رہنما کو ورلڈ اکنامک فورم کے کانگریس سینٹر اور فورم کے تمام خصوصی پروگراموں میں مکمل اور مساوی رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اسے ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے سربراہانِ مملکت اور حکومتوں کے لیے قائم کردہ ایک باوقار شناخت سمجھا جاتا ہے۔ اسی کانگریس سینٹر میں امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سمیت کئی ممالک کے سربراہان اور حکومتی قائدین کی شرکت بھی متوقع ہے۔
جھارکھنڈ کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری کی خواہش
ورلڈ اکنامک فورم کے سینئر نمائندوں شَیلش اور انوپ نے فورم کے صدر کے خیالات سے وزیر اعلیٰ کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم جھارکھنڈ کے ساتھ ایک طویل مدتی شراکت داری کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے فورم کے صدر کو بھیجے گئے رسمی مکتوب کی بھی ستائش کی اور اسے جھارکھنڈ کی واضح ترقیاتی سوچ، سنجیدگی اور عالمی شراکت کے تئیں مضبوط عزم کی علامت قرار دیا۔
اہم عالمی موضوعات پر تبادلۂ خیال
داؤس میں ورلڈ اکنامک فورم کی ٹیم کے ساتھ مسلسل رابطے اور ترجیحات کے ہم آہنگی کے ذریعے جھارکھنڈ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ ملاقات کے دوران تین اہم موضوعات، جن میں اہم معدنیات، مضبوط اور جامع معاشرہ، نیز ماحولیاتی اقدام اور توانائی کی منتقلی شامل ہیں، پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔ فورم کے نمائندوں نے وزیر اعلیٰ کو ورلڈ اکنامک فورم کی سائٹ کے دورے کی دعوت بھی دی اور بتایا کہ فورم کے صدر آئندہ جھارکھنڈ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے امکانات پر بات چیت کے خواہاں ہیں۔
