ہومJharkhandچندرگپت کول منصوبہ معاملہ: ملزمین کو بچانے کی شکایت پر مرکز کا...

چندرگپت کول منصوبہ معاملہ: ملزمین کو بچانے کی شکایت پر مرکز کا جھارکھنڈ حکومت کو خط

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

زمین کے ریکارڈ میں گڑبڑی اور سی آئی ڈی کی تصدیق کے بعد مرکزی حکومت نے کارروائی کی ہدایت دی

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 5 جنوری:۔سنٹرل کول فیلڈس لمیٹڈ (سی سی ایل) کے تحت ہزاری باغ ضلع کے کیریڈاری علاقے میں واقع چندرگپت اوپن کاسٹ کول منصوبے کے لیے حاصل کی جانے والی 417 ایکڑ زمین کے ریکارڈ غائب ہونے کے سنگین معاملے میں اب مرکزی حکومت نے مداخلت کی ہے۔ ملزمین کو بچانے کی کوششوں سے متعلق موصول ہونے والی شکایت پر بھارت سرکار نے جھارکھنڈ حکومت کو خط لکھ کر معاملے میں ضروری کارروائی کرنے اور وزارت نیز شکایت کنندہ کو اس سے آگاہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب جھارکھنڈ کے کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (CID) نے زمین کے ریکارڈ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور دھوکہ دہی کی تصدیق کی۔ جانچ میں انکشاف ہوا کہ زمین کے اصل دستاویزات کو یا تو غائب کر دیا گیا یا انہیں ناقابلِ مطالعہ اور بوسیدہ قرار دے کر جان بوجھ کر جنگلات کے تحفظ کے قانون 1980 کے تحت فارم ’اے‘ (پرپتر-1) کی تیاری کی گئی۔سی آئی ڈی نے اپنی جانچ مکمل کرنے کے بعد گزشتہ سال جولائی میں کارروائی کی سفارش کے ساتھ رپورٹ محکمۂ داخلہ، جیل و آفاتِ انتظامیہ کو سونپی تھی۔ اس کے بعد 25 نومبر کو محکمۂ داخلہ نے محکمۂ جنگلات، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی سے معاملے کی موجودہ صورتِ حال اور رائے طلب کی۔ محکمۂ مال سے رائے موصول ہونے کے بعد دسمبر میں محکمۂ جنگلات کے نائب سکریٹری چندرشیکھر پرساد نے مزید کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ہزاری باغ اور ڈی ایف او، ہزاری باغ مغربی جنگلاتی ڈویژن سے وضاحت طلب کی۔نائب سکریٹری کی جانب سے اسی سطح کے افسران سے رائے مانگے جانے پر بھارت سرکار سے شکایت کی گئی، جس میں کہا گیا کہ جس سطح پر بے ضابطگی ہوئی، اسی سطح سے وضاحت طلب کرنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے اور اس سے ملزمین کو بچانے کی سازش ظاہر ہوتی ہے۔ اس شکایت پر نوٹس لیتے ہوئے بھارت سرکار کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل آف فاریسٹ، پرشانت راجگوپال نے جھارکھنڈ حکومت کے خصوصی سکریٹری کو خط لکھ کر ہدایت دی ہے کہ معاملے میں ضروری کارروائی کرتے ہوئے وزارت اور شکایت کنندہ دونوں کو مطلع کیا جائے۔ اسی دوران ہزاری باغ کی ایک اور کول منصوبہ سے متعلق 832 ایکڑ زمین، جس میں ندی، نالے اور تالاب شامل ہیں، کے ریکارڈ غائب ہونے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جس نے ریاست میں کول منصوبوں کے لیے زمین حصول اور جنگلاتی قوانین پر عمل درآمد پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version