کل جماعتی میٹنگ میں ہاتھیوں کے حملے اور مائننگ پر خصوصی بحث کا مطالبہ
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،17؍فروری: جھارکھنڈ اسمبلی کا بجٹ اجلاس 18 فروری سے شروع ہو رہا ہے۔ ایوان کی کارروائی پرامن طریقے سے کیسے چلے، اسے لے کر اسپیکر رابندرناتھ مہتو نے کل جماعتی میٹنگ کی۔ جس میں وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین، لیڈر آف اپوزیشن بابو لال مرانڈی، پارلیمانی امور کے وزیر رادھا کرشن کشور، کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر پردیپ یادو، آجسو ایم ایل اے نرمل مہتو وغیرہ موجود تھے۔ اسپیکر چیمبر میں منعقد اس میٹنگ میں بلدیاتی انتخابات (نگر نکائے چناو) کے پیش نظر 23 فروری کی کارروائی پر تبادلہ خیال ہوا۔ ساتھ ہی ریاست میں حالیہ دنوں میں ہاتھیوں کے بڑھتے ہوئے قہر اور کان کنی (مائننگ) پر خصوصی بحث کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ میٹنگ میں بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے ایوان کی کارروائی 23 فروری کے بجائے ضمنی بجٹ پر بحث 21 فروری کو رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس کی وجہ سے ہفتہ ہونے کے باوجود اس بار 21 فروری کو ایوان کی کارروائی ہوگی۔ یہ فیصلہ 18 فروری کو ایوان کی کارروائی کے بعد ہونے والی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں لیا جائے گا۔ آجسو ایم ایل اے نرمل مہتو نے کہا کہ ہاتھیوں کے قہر اور مائننگ پر خصوصی بحث کرانے کا مطالبہ رکھا گیا ہے۔ وہیں لیڈر آف اپوزیشن بابو لال مرانڈی نے کہا کہ ایجنڈے میں تبدیلی کا فیصلہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں لیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ 18 فروری کو بجٹ اجلاس کا باضابطہ آغاز ہوگا۔ اس کے بعد 19 فروری کو گورنر کے خطبے پر شکریہ کی تحریک اور بحث ہوگی۔کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر پردیپ یادو نے کہا کہ اسمبلی اجلاس کیسے بہتر طریقے سے چلے، اسی کو لے کر میٹنگ ہوئی ہے۔ بتا دیں کہ 20 فروری کو مالی سال 26-2025 کا تیسرا ضمنی بجٹ پیش ہوگا۔ جس کے بعد 20 فروری کو ہی گورنر کے خطبے پر بحث کے بعد حکومت کا جواب اور ووٹنگ ہوگی۔ اسی دن ریاستی حکومت کی جانب سے اقتصادی سروے رپورٹ بھی لائے جانے کا امکان ہے۔ وہیں 24 فروری کو وزیر خزانہ رادھا کرشن کشور مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کریں گے۔
