1200 سے زائد جرائم پیشہ پولیس کے ریڈار پر
جدید بھارت نیوز سروس
پلاموں،3؍فروری: ضلع میں ہسٹری شیٹر مجرموں کے خلاف بڑی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ پولیس نے منظم جرائم، آرمز ایکٹ اور ڈکیتی سے جڑے مجرموں کو ریڈار پر لے لیا ہے۔ دراصل جن لوگوں کو ریڈار پر لیا گیا ہے، وہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ہی جیل سے باہر نکلے ہیں۔ پلاموں پولیس کے مطابق 2021 سے اب تک 1214 ملزمان جیل سے باہر آئے ہیں، جن پر سنگین جرائم کے مقدمات درج ہیں۔
پولیس نے کارروائی شروع کی
آرمز ایکٹ کے 287، ڈکیتی اور لوٹ مار کے 349، این ڈی پی ایس (NDPS) ایکٹ کے 476 اور منظم جرائم سے وابستہ 102 ملزمان جیل سے باہر نکلے ہیں۔ پولیس نے ان تمام کی فہرست ایک جگہ جمع کر لی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
گینگسٹروں کی فہرست الگ سے تیار
پلاموں پولیس تمام ملزمان کے گھر جا رہی ہے اور ان کی طبعی تصدیق (physical verification) کر رہی ہے۔ منظم جرائم میں ملوث گینگسٹروں کی فہرست الگ سے تیار کی گئی ہے۔ ان کے خلاف تھانے میں حاضری کی کارروائی کی جا رہی ہے اور ان کے ضمانت داروں کی بھی تصدیق کی جا رہی ہے۔پلاموں کی ایس پی ریشما رمیشن نے بتایا کہ “گزشتہ پانچ سالوں میں جیل سے رہا ہونے والے وہ مجرم جو آرمز ایکٹ، منشیات (این ڈی پی ایس) اور منظم جرائم سے جڑے ہوئے ہیں، ان کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ نکسلی واقعات سے وابستہ ملزمان کی بھی جانچ ہو رہی ہے۔ 1214 افراد کی فہرست تیار کی گئی ہے اور مختلف نکات پر کارروائی جاری ہے۔”
مناتو اور ٹاؤن تھانہ علاقوں میں سب سے زیادہ مجرم ریڈار پر
پولیس نے سب سے زیادہ مجرم مناتو اور ٹاؤن تھانہ علاقوں سے ریڈار پر لیے ہیں۔ مناتو میں 282 جبکہ ٹاؤن میں 177 مجرموں کو نشان زد کیا گیا ہے۔ میدنی نگر ٹاؤن تھانہ علاقے میں سب سے زیادہ 44 گینگسٹروں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے۔ مناتو میں سب سے زیادہ 194 افراد این ڈی پی ایس کے ملزم ہیں جن کے خلاف کارروائی شروع ہوئی ہے۔نکسلیوں اور ان کے حامیوں کی الگ سے نشاندہی کر کے کارروائی کی جا رہی ہے۔ پولیس نے چین پور کے 106، صدر 105، چھترپور 79، پانکی 70، بشنو پور 57، حسین آباد 49، ہری ہر گنج 48، پاتن 44، ترہسی 44، پڑوا 33، لیسلی گنج 29، پپرا ٹانڑ27، ناوا جے پور 26، ریہلا 19، حیدر نگر 18، نوڈیہا بازار 18، پانڈو 15، ستبروا 14، محمد گنج 12، اونٹاری روڈ 11، ناوا بازار 05 اور رام گڑھ سے 05 ملزمان کو ریڈار پر لیا ہے۔
