بوکارو ایس پی نے قتل کیس میں کارروائی کی
جدید بھارت نیوز سروس
بوکارو، 12 اپریل:۔ بوکارو ایس پی ہروندر سنگھ نے ضلع کے پنڈراجورا تھانہ علاقے میں ہوئے پشپا مہتو اغوا اور قتل کیس میں پنڈراجورا تھانہ انچارج ابھیشیک رنجن سمیت تھانے کے تمام 28 افسران اور اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔ معطل ہونے والوں میں تھانے میں تعینات دس سب انسپکٹر، پانچ اسسٹنٹ سب انسپکٹر، دو حوالدار اور 11 سپاہی شامل ہیں۔ نوجوان خاتون پشپا مہتو کے لاپتہ ہونے کی اطلاع اس کی ماں نے 24 جولائی 2025 کو دی تھی۔ اس اطلاع کے بعد بھی دسویں دن 4 اگست کو اس معاملے میں تھانہ انچارج نے ایف آئی آر درج کی تھی۔ ایس پی ہروندر سنگھ نے بتایا کہ کیس کا انکشاف کرنے کے لیے تھانہ انچارج ابھیشیک رنجن کی قیادت میں ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی۔جائزے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ایس آئی ٹی نے دی گئی ہدایات پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا۔ تحقیقات کے دوران استغاثہ کے پہلو کو کمزور کرتے ہوئے ملزم کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے کام کیا جا رہا تھا۔ ایس پی نے بتایا کہ کیس کا فوری سراغ لگانے کے لیے سٹی ڈی ایس پی آلوک رنجن کی قیادت میں ایک دوسری ایس آئی ٹی بنائی گئی۔دوسری ایس آئی ٹی نے صرف ایک دن میں ملزم کو گرفتار کیا اور اس کی نشان دہی پر مغوی خاتون کی موت کی گتھی سلجھا لی۔ ہڈیاں اور بال برآمد کیے گئے۔ وہ چاقو بھی ڈھونڈ نکالا گیا جس سے ملزم نے خاتون کا قتل کیا تھا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم دنیش اور پشپا کے درمیان طویل عرصے سے محبت کے تعلقات تھے۔پشپا مسلسل شادی کے لیے دباو ڈال رہی تھی، جس سے پریشان ہو کر دنیش نے اسے راستے سے ہٹانے کی سازش رچی۔ اس نے پشپا کو چاس کالج بلانے کے بہانے جھانسا دیا اور وہاں سے قریبی جنگل لے گیا، جہاں چاقو سے اس کا گلا ریت کر قتل کر دیا اور لاش کو جھاڑیوں میں چھپا دیا۔ایس پی کے مطابق اس سے یہ واضح ہوا کہ تھانے میں تعینات تمام اہلکاروں اور افسران نے کیس کا سراغ لگانے میں مطلوبہ تعاون نہیں کیا۔ تھانے کی رازداری بھی برقرار نہیں رکھی۔ ملزم کو بچانے کے لیے روپے کے لین دین کی شکایت بھی ملی۔ ملزم کے ساتھ تھانے میں پارٹی کرنے کی اطلاع بھی ملی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس معاملے میں انصاف کے لیے لواحقین ہائی کورٹ گئے تھے۔ عدالت نے پولیس کی لاپروائی پر سخت حکم دیا تھا۔ اس کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ مقتولہ کا ڈھانچہ گزشتہ ہفتہ کو برآمد کیا گیا تھا۔
