ہومJharkhandقومی لوک عدالت میں جھارکھنڈ کے 24.25لاکھ مقدمات نمٹائے گئے

قومی لوک عدالت میں جھارکھنڈ کے 24.25لاکھ مقدمات نمٹائے گئے

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

2,813 کروڑ مالیت کے تنازعات کا تصفیہ؛ فلاحی اسکیموں کے تحت 3 کروڑ کے فوائد مستحقین میں تقسیم

جدید بھارت نیوز سروس
جمشیدپور، 14 مارچ:۔ ریاست جھارکھنڈ میں سال 2026 کی پہلی قومی لوک عدالت کے دوران 24.25 لاکھ سے زائد مقدمات کا تصفیہ کر دیا گیا، جب کہ مجموعی طور پر 2,813.96 کروڑ روپے مالیت کے تنازعات بھی نمٹائے گئے۔ یہ اعداد و شمار جھارکھنڈ اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی (JHALSA) کی جانب سے جاری کیے گئے۔ جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ریاست بھر میں منعقد ہونے والی لوک عدالت کے دوران مجموعی طور پر 22,59,352 پری لِٹیگیشن مقدمات اور 1,66,384 زیر التوا مقدمات نمٹائے گئے۔ ہفتہ کے روز ریاست کے مختلف اضلاع میں لوک عدالت کے بنچ قائم کیے گئے تھے جہاں بڑی تعداد میں فریقین کے درمیان مفاہمتی بنیادوں پر معاملات طے کیے گئے۔
جمشیدپور سے لوک عدالت کا افتتاح
لوک عدالت کا باضابطہ افتتاح جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے جج اور JHALSA کے ایگزیکٹو چیئرمین جسٹس سجیت نارائن پرساد نے جمشیدپور کے سگڈورا ٹاؤن ہال سے ورچوئل طریقے سے کیا۔ اس موقع پر ریاستی سطح کا لیگل سروسز کم ایمپاورمنٹ کیمپ بھی منعقد کیا گیا۔ تقریب میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے جج جسٹس پردیپ کمار سریواستو بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ جمشیدپور کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، ڈپٹی کمشنر اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمیت متعدد معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔
3 کروڑ روپے کے فوائد مستحقین میں تقسیم
پروگرام کے دوران JHALSA کی جانب سے منعقدہ لیگل سروسز کم ایمپاورمنٹ کیمپ میں مختلف سرکاری فلاحی اسکیموں کے تحت 1,030 مستحقین میں تقریباً 3 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے اور فوائد تقسیم کیے گئے۔ جسٹس سجیت نارائن پرساد اور جسٹس پردیپ کمار سریواستو نے مستحقین کے درمیان یہ فوائد تقسیم کیے۔
جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں خصوصی بنچ
جھارکھنڈ ہائی کورٹ لیگل سروسز کمیٹی کے تحت ایک خصوصی بنچ قائم کیا گیا تھا جس نے لوک عدالت کے دوران زیر التوا 11 مقدمات کا تصفیہ کیا۔
سماجی بیداری کی اپیل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس سجیت نارائن پرساد نے امید ظاہر کی کہ 2026 کی پہلی لوک عدالت اور اس سال منعقد ہونے والی مزید تین لوک عدالتیں مثبت نتائج فراہم کریں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری فلاحی اسکیموں کا مؤثر نفاذ یقینی بنایا جائے کیونکہ خاندانوں کی ترقی ہی معاشرے، ریاست اور ملک کی ترقی کا باعث بنتی ہے۔
انہوں نے سماج میں پائے جانے والے کئی سنگین مسائل جیسے جادو ٹونا کے نام پر تشدد، انسانی اسمگلنگ، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور منشیات کے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان کے تدارک کے لیے عوامی بیداری اور چوکسی کی ضرورت پر زور دیا۔
انصاف تک رسائی کو یقینی بنانے پر زور
اس موقع پر جسٹس پردیپ کمار سریواستو نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس بات کے لیے پُرعزم ہیں کہ فلاحی اسکیموں کا فائدہ ہر شہری تک پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی اور ریاستی لیگل سروسز اتھارٹیز عوام میں قانونی شعور بیدار کرنے اور انصاف تک رسائی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ پروگرام کا آغاز JHALSA کی ممبر سیکریٹری کماری رنجنا استھانا کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جبکہ اختتامی کلمات جمشیدپور کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے پیش کیے۔ بعد ازاں مہمانِ خصوصی اور دیگر معززین نے مختلف محکموں کی جانب سے لگائے گئے اسٹالز کا معائنہ کیا، فلاحی اسکیموں کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ان کے نفاذ میں مصروف افسران کی حوصلہ افزائی کی۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.