ازم اب آخری سانسوں پر ہے” یومِ تاسیس پر ڈی جی پی تداشا مشرا کا بڑا بیان
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی ،19؍فروری:جھارکھنڈ میں نکسلیوں کے لیے خوف کی علامت ‘جھارکھنڈ جگوار‘ 19 فروری کو 18 سال کی ہو گئی۔ جھارکھنڈ سے نکسلیوں کے خاتمے کا ہدف پورا کرنے میں مصروف جھارکھنڈ جگوار نے ڈی جی پی اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام کی موجودگی میں اپنا 18واں یومِ تاسیس انتہائی پروقار طریقے سے منایا۔
2008 میں ہوئی تھی جھارکھنڈ جگوار کی بنیاد
نکسلیوں کے خلاف جھارکھنڈ کی اپنی خصوصی فورس ‘جھارکھنڈ جگوار‘نے جمعرات کو اپنا 18واں یومِ تاسیس منایا۔ ڈی جی پی تداشا مشرا اس موقع پر بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں۔ 2008 میں اپنے قیام سے لے کر اب تک جھارکھنڈ جگوار نے بے شمار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی پی تداشا مشرا نے کہا کہ جھارکھنڈ جگوار نے اپنی قربانیاں دے کر نکسل مسئلہ پر قابو پایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 18 سالوں میں اس فورس نے نکسل تنظیموں کے خلاف بہترین کام کیا ہے۔ بہتر تربیت نے ہماری فورس کو مثالی بنایا ہے اور نئے جوان بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت نے پولیس کے چیلنجز کو حل کرنے کی سمت میں کام کیا ہے جس سے فورس کا حوصلہ بلند ہوا ہے۔ ان 18 سالوں میں 350 سے زائد نکسلی گرفتار کیے گئے اور 50 سے زیادہ مارے گئے۔
ڈی جی پی نے مزید بتایا کہ جگوار کے جوان نہ صرف نکسلیوں کے خلاف بہترین ہیں بلکہ ان کا بم ڈسپوزل اسکواڈ (BDS) بھی شاندار کام کر رہا ہے، جس نے نکسلیوں کے بچھائے ہوئے آئی ای ڈی (IED) اور لینڈ مائنز کو ناکارہ بنا کر جنگلی راستوں کو محفوظ بنایا۔
ہسپتال بنانے کا اعلان
اس موقع پر ڈی جی پی تداشا مشرا نے جگوار ہیڈ کوارٹر میں ایک ہسپتال کھولنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی جی انوپ برتھرے کی تجویز پر جلد ہی یہاں 10 بستروں کا ہسپتال شروع کیا جائے گا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم اور تمام طبی سہولیات میسر ہوں گی۔
ہماری فورس بہترین ہے: آئی جی جگوار
آئی جی انوپ برتھرے نے بتایا کہ جھارکھنڈ جگوار کا قیام 2008 میں اینٹی نکسل فورس کے طور پر کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے 24 شہید افسران اور جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے ریاست کو نکسل فری بنانے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ اب تک 114 مقابلوں میں 50 سے زائد انتہا پسند مارے گئے، 300 سے زائد گرفتار ہوئے اور بھاری مقدار میں اسلحہ و آئی ای ڈی برآمد کی گئی۔
ماؤنوازوں کا تقریباً خاتمہ ہو چکا ہے: آئی جی
آئی جی نے بتایا کہ سال 2025 میں 7 انتہا پسند مارے گئے اور بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔ اب ریاست کے صرف چار اضلاع اس مسئلے سے متاثر ہیں، جن میں چائی باسا اہم ہے۔ ہم اس مسئلے کو مکمل ختم کرنے کے دہانے پر کھڑے ہیں۔
جنگل وار (Jungle War) میں ماہر ہے جگوار
ٹریننگ کے شعبے میں بھی اس فورس کو بھارت کا بہترین ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قرار دیا جا چکا ہے۔ اب تک اس فورس کے ارکان کو صدر جمہوریہ میڈل، بہادری کے تمغے اور وزیراعلیٰ کی جانب سے دیئے جانے والے مختلف اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔
گرے ہاؤنڈ کی طرز پر تشکیل
2000 سے 2007 کے درمیان جب نکسل ازم عروج پر تھا، تب جھارکھنڈ پولیس مرکزی فورسز پر منحصر تھی۔ آندھرا پردیش کی ‘گرے ہاؤنڈ‘ فورس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے جھارکھنڈ جگوار تشکیل دی گئی، جو آج نکسلیوں کے خلاف انتہائی موثر ثابت ہو رہی ہے۔پروگرام کے دوران جوانوں نے ایک ‘ڈیمو‘ کے ذریعے نکسل آپریشن اور انکاؤنٹر کا لائیو منظر پیش کیا، جس میں دکھایا گیا کہ کس طرح بیہڑ جنگلوں میں آئی ای ڈی کے چیلنجز سے نمٹتے ہوئے ماؤنوازوں کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔
