ہومInternationalدنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر کے باوجود وینزوئیلا غریب کیوں

دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر کے باوجود وینزوئیلا غریب کیوں

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

شدید عالمی پابندیوں اور اربوں ڈالرز کے قرضوں نے وینزوئیلا کو جکڑ رکھا ہے

کراکس، 5 جنوری (یو این آئی)امریکہ کی جانب سے وینزوئیلا پر حملے اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو بغیر کسی مزاحمت کے امریکہ منتقل کرنے پر دنیا بھر کی توجہ اس ملک پر اچانک مرکوز ہوگئی ہے جو تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود معاشی مشکلات کا شکار ہے۔الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ملک سیاہ سونے یعنی تیل کے ایک عظیم سمندر پر بیٹھا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2023 تک وینزوئیلا کے تصدیق شدہ تیل کے ذخائر تقریباً 303 ارب بیرل تھے۔ یہ مقدار سعودی عرب (267.2 ارب بیرل)، ایران اور کینیڈا جیسے بڑے ممالک سے بھی کہیں زیادہ ہے۔امریکہ کے مقابلے میں دیکھا جائے تو اس کے پاس وینزویلا سے تقریباً پانچ گنا کم تیل ہے (55 ارب بیرل)۔ اس طرح وینزویلا کو دنیا کے امیر ترین ممالک میں ہونا چاہیے تھا، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ ملک آج اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے عام شہری کی قوت خرید بہت کم ہے۔ مقامی کرنسی بولیوار کی قدر شدید گراوٹ کا شکار ہے۔شدید عالمی پابندیوں کے ساتھ اربوں ڈالرز کے قرضوں نے بھی وینزوئیلا کو جکڑ رکھا ہے۔ رائٹرز کے مطابق تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ وینزوئیلا کے تقریباً 60 ارب ڈالر مالیت کے ڈیفالٹ شدہ بانڈز تاحال واجب الادا ہیں جب کہ وینزوئیلا کا مجموعی بیرونی قرضہ تقریباً 150 سے 170 ارب ڈالر کے درمیان بنتا ہے۔عام قاری کے ذہن میں یہ سوال آنا فطری ہےکہ اتنا تیل ہونے کے باوجود وینزویلا اتنی معاشی مشکلات کا شکار کیوں ہے؟اس کا جواب وینزوئیلا کے جغرافیے اور ٹیکنالوجی میں پوشیدہ ہے۔ وینزوئیلا کا زیادہ تر تیل ملک کے مشرقی حصے میں واقع اورینوکو بیلٹ میں پایا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ ہیوی کروڈ آئل (بھاری خام تیل) ہے۔ یہ تیل نہایت گاڑھا ہوتا ہے جسے نکالنا اور صاف کرنا عام تیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ہے۔ اس تیل میں سلفر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جسے نکالنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بھاری سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ چونکہ یہ تیل زیادہ بھاری اور پراسیسنگ کے لحاظ سے مشکل ہے، اس لیے عالمی منڈی میں یہ دوسرے ممالک کے خام تیل کے مقابلے میں کہیں کم قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔تیل کے معیار کے مسائل کے ساتھ ساتھ حکومتی بدانتظامی نے بھی حالات کو مزید خراب کردیا ہے۔ سرکاری ملکیت کی آئل کمپنی پیٹرولیوس ڈی وینزویلا (PDVSA) پورے تیل کے شعبے کو کنٹرول کرتی ہے۔ تاہم پابندیوں اور ناموزوں پالیسیوں کے باعث انفرااسٹرکچر میں برسوں کی کم سرمایہ کاری کی وجہ سے مشینری پرانی ہوچکی ہے اور پیداوار کی صلاحیت میں نمایاں کمی آگئی ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی عدم استحکام اور بدعنوانی نے مسائل کو اور بھی سنگین بنا دیا ہے۔اسی وجہ سے وینزوئیلا نے 2023 میں صرف 4.05 ارب ڈالر مالیت کا تیل برآمد کیا۔ اس کے مقابلے میں سعودی عرب نے 181 ارب ڈالر اور امریکہ نے 125 ارب ڈالر کا تیل برآمد کیا۔ یوں بے پناہ ذخائر کے باوجود ان وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال نہ کر پانا ہی وینزوئیلا کی غربت اور معاشی مشکلات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینزوئیلا اپنے تیل کے ذخائر کا صرف 1 فیصد انتہائی دشواری سے نکال پاتا ہے۔ حالیہ امریکی ناکہ بندی جس کے تحت پابندیوں کا شکار تیل بردار جہازوں کو روکا گیا، نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔امریکہ نے وینزوئیلا پر تیل کی فروخت پر بھی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا یہ پابندی ہٹائی جائے گی یا نہیں۔گزشتہ روز پریس بریفنگ میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم وینزوئیلا میں بڑی امریکی تیل کمپنیوں کو بھیجیں گے، جو اربوں ڈالر خرچ کریں گی، بری طرح تباہ شدہ تیل کے بنیادی ڈھانچے کو ٹھیک کریں گی اور ملک کے لیے آمدنی پیدا کریں گی۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version