ہومInternationalہم، ’ہجرت کی حوصلہ افزائی‘ کریں گے: سموٹرچ

ہم، ’ہجرت کی حوصلہ افزائی‘ کریں گے: سموٹرچ

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

تل ابیب، 18 فروری (یو این آئی) اسرائیل کے انتہائی متعصب وزیرِ خزانہ بیزالل سموٹرچ نے کہا ہےکہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ سے فلسطینیوں کی ’ہجرت کی حوصلہ افزائی‘ کی پالیسی اختیار کریں گے۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی بروز بدھ جاری کردہ خبر کے مطابق سموٹرچ نے منگل کے روز اپنی مذہبی صہیونزم پارٹی کی طرف سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ “ہم ایک عرب دہشت گرد ریاست کے تصور کو ختم کر دیں گے”۔سموٹرچ نے کہا ہے کہ “ہم بالآخر، سرکاری و عملی طور پر ملعون اوسلو معاہدوں کو منسوخ کر دیں گے اور خود مختاری کے راستے پر گامزن ہو جائیں گے”۔خود بھی مقبوضہ مغربی کنارے کےغیر قانونی آبادکار ‘سموٹرچ، نےمقبوضہ مغربی کنارے کے لئے عبرانی نام ‘ یہودیہ و شمرون، کا استعمال کیا اور کہا ہے کہ “ہم ،غزہ اور یہودیہ و شمرون ہر دو علاقوں سے فلسطینیوں کی ہجرت کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ اس کے علاوہ اور کوئی طویل المدتی حل موجود نہیں ہے”۔واضح رہے کہ اسرائیل نےکٹّر وزراء کی حمایت سے گذشتہ ہفتے ایک منصوبہ منظور کیا تھا جس کا مقصد مغربی کنارے پر قبضہ سخت کرنا اور اسےمستقل بنانا ہے۔اسرائیل جن علاقوں پر قبضے کو مضبوط کرنا چاہتا ہے ان میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جن کا انتظام اوسلو معاہدوں کے تحت 1990 کی دہائی سے فلسطینی اتھارٹی کے ہاتھ میں ہے۔ان اقدامات میں مقبوضہ مغربی کنارے کی زمین کا بحیثیت “ریاستی ملکیت” کے اندراج کرنا اور یہودی اسرائیلیوں کے لیے زمین کی براہِ راست خریداری کو آسان بنانا شامل ہے۔ان اقدامات نے وسیع پیمانے پر بین الاقوامی مذّمت کو جنم دیا ہے۔ناقدین ان اقدامات کو فلسطینی علاقے کے عملی الحاق کے مترادف قرار دیتے ہیں اور منگل کو، اقوامِ متحدہ میں 85 ممالک کے سفارتی مشنوں نے ان اقدامات کی مذمت کی ہے۔مذّمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ “ہم ، مغربی کنارے میں اسرائیل کے غیرقانونی وجود میں اضافے پر مبنی ان یکطرفہ فیصلوں اور اقدامات کی سخت مذّمت کرتے ہیں ۔یہ فیصلے بین الاقوامی قانون کی رُو سے اسرائیل پر عائد ذمہ داریوں کے منافی ہیں اور انہیں فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔ ہم اس حوالے سے کسی بھی قسم کے الحاق کی سخت مخالفت کا اعادہ کرتے ہیں”۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے پیر کو جاری کردہ بیان میں اس پالیسی کو ‘عدم استحکام” پر مبنی اور ‘غیر قانونی قرار دیا اور اسرائیل سے ‘زمینی اندراج پالیسی، کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارہ مستقبل کی کسی بھی فلسطینی ریاست کا سب سے بڑا حصہ ہوگا۔ تاہم کٹّر اسرائیلی حلقے اسے اسرائیلی زمین قرار دیتے ہیں۔اسرائیلی غیر سرکاری تنظیموں نے بھی حکومت کے منظور کردہ آبادکاری منصوبے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ یہ منصوبہ 1967 کے بعد سے القدس کی سرحدوں میں واقع اور زیرِ قبضہ ‘مغربی کنارے ‘ کی طرف پہلی توسیعی آبادکاری ہوگی۔اسرائیل وزارتِ تعمیرات و رہائش کے اعلان کردہ اس منصوبہ بند ترقیاتی پروگرام میں شامل یہ غیر قانونی بستی مغربی کنارے میں اور القدس کے شمال مشرق کی طرف واقع ہے اور وزارت نے اسے ‘ گیوا بنیامین، یا پھر ‘ آدم ،کی مغرب کی طرف توسیع قرار دیا ہے ۔موجودہ اسرائیلی حکومت نے بستیوں کی توسیع کو تیز کر دیا اور سال 2025 میں 52 بستیوں کی ریکارڈ منظوری دی ہے۔اسرائیل کے زیرِ قبضہ ‘مشرقی القدس، خارج مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں اور خارجی چوکیوں میں 500,000 سے زائد اسرائیلی رہتے ہیں، جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیرقانونی ہیں۔1967 سے اسرائیل کے زیرِ قبضہ اس علاقے میں تقریباً تین ملین فلسطینی رہتے ہیں ۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version