اقوام متحدہ، 20 فروری (یو این آئی) اقوام متحدہ نے، معاشی خلل، غلط معلومات اور آن لائن بدسلوکی کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کی وجہ سے مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی قواعد و ضوابط وضع کرنے کے اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے آج بروز جمعہ جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ایک نو تصدیق شدہ ‘بین الاقوامی ماہرین پینل، مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بدلتے نظاموں کے خطرات کی بہتر تفہیم اور زیادہ ہوشيار ضابطہ عمل کی تیار ی میں پالیسی سازوں کی مدد کرے گا۔بھارت کے شہر نئی دہلی میں ایک اجلاس سے خطاب میں گوٹیرش نے خبردار کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے اس پر کنٹرول کی عالمی صلاحیت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جس نے معاشروں کو، روزگار سے محرومی سے لے کر نقصان دہ مواد کے پھیلاؤ کے خطرے تک بہت سے ناپسندیدہ نتائج کے مقابل بے بس کر دیا ہے۔گوٹیرش نے کہا ہے کہ اے آئی کے دائرہ اختیار سے متعلق زیادہ واضح قانون، اس کے ریگولیٹروں کو ایک ضابطہ عمل کا ہی پابند نہیں کریں گے بلکہ ہدف کو تحفظ فراہم کرنے اور جدّتوں کے دوام کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ خطرات کو کنٹرول میں رکھنے کا امکان بھی فراہم کریں گے۔اے آئی بین الاقوامی ماہرین پینل کے اراکین میں نوبل انعام یافتہ صحافی ماریا ریسہ اور اے آئی کی کینیڈین محقق یوشوا بنجیو شامل ہیں۔ پینل کی پہلی رپورٹ جولائی میں متوقع اقوام متحدہ کے اے آئی گورننس مذاکرات سے قبل متوقع ہے۔
اقوام متحدہ: مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی قواعد و ضوابط کی کاروائیاں شروع
مقالات ذات صلة
