ہومInternationalجون 2025 کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ کا بیان

جون 2025 کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ کا بیان

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

جنیوا میں ایران سے ’سمجھداری‘ کی امید

واشنگٹن، 17 فروری (یو این آئی) امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر جون 2025 میں ہوئے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنیوا میں ہوئی میٹنگ میں ایران سے ‘سمجھداری،کی امید ہے۔ مسٹر ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان منگل کو جنیوا میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے جوہری مذاکرات میں ‘بالواسطہ طور پر، شامل رہیں گے۔انہوں نے فردو، اصفہان اور نطنز پر ہوئے امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایران سے بات چیت کے دوران ‘منطقی، رویہ اپنانے کی اپیل کی۔ مسٹر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “میں ان مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل رہوں گا اور یہ بہت اہم ہوں گے۔ مجھے امید ہے کہ وہ (ایران) زیادہ منطقی ہوں گے۔”جنیوا اجلاس میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے مشیر جیرڈ کشنر کی شرکت کا امکان ہے۔ معاہدے کے امکانات پر مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایران روایتی طور پر سخت موقف اپناتا رہا ہے، لیکن گزشتہ برس امریکی حملوں سے اس نے سبق سیکھا ہے اور اب مذاکرات کے لیے زیادہ مائل ہے۔انہوں نے کہا کہ “مجھے نہیں لگتا کہ وہ معاہدہ نہ کرنے کے نتائج چاہتے ہیں۔ یہ بہت اہم ہوگا۔ ایران ایک مشکل مذاکرات کار ہے، بلکہ میں کہوں گا کہ وہ برے مذاکرات کار ہیں۔ ہم معاہدہ کر سکتے تھے، بی-2 بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔” انہوں نے مزید کہا کہ “وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ مغربی ایشیا میں امن ہے، کیونکہ ہم نے ان کی جوہری تنصیبات پر بی-2 بمبار سے حملے کیے۔ اگر ہم حملے نہ کرتے تو وہ ایک ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتے۔ اگر ایسا ہوتا، تو معاہدہ ہی مختلف ہوتا۔”واضح رہے کہ جون میں ہوئے امریکی حملوں سے پہلے امریکہ چاہتا تھا کہ ایران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روک دے، جبکہ ایران ایسا کرنے کے اپنے حق پر زور دے رہا تھا۔ جنیوا کی یہ مذاکرات 6 فروری کو عمان میں ہوئے پہلے بالواسطہ دور کے بعد ہو رہے ہیں۔ اس ملاقات کو دونوں فریقین نے ‘اچھی شروعات،قرار دیا تھا، حالانکہ اختلافات برقرار رہے۔ امریکہ میزائل پروگرام اور علاقائی گروہوں جیسے کہ حزب اللہ پر بھی بحث چاہتا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام مذاکرات کا موضوع نہیں ہے اور وہ صرف پابندیوں میں ریلیف کے بدلے جوہری پابندیوں پر بات کرے گا۔اسی دوران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنیوا میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ سے ملاقات کی اور سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ ایک ‘منصفانہ اور مبنی بر انصاف معاہدے،کے لیے وہاں پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “دھمکیوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔” آئی اے ای اے نے گزشتہ برس اسرائیل-امریکہ حملوں کے بعد ایران کے 440 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر وضاحت طلب کی ہے اور نطنز، فردو اور اصفہان کی تنصیبات تک مکمل رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ایران نے پیر کے روز آبنائے ہرمز میں ایک فوجی مشق بھی کی۔ ایران نے انتباہ دیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس پر کوئی بھی حملہ کیا تو وہ ہرمز کو بند کر دے گا، جس سے دنیا کی 20 فیصد تیل کی تجارت متاثر ہوگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے علاوہ اپنے میزائل پروگرام پر بھی بات کرے، لیکن ایران کا کہنا ہے کہ وہ پابندیاں ختم کرانے کے لیے صرف جوہری مسائل پر ہی بات کرے گا۔دریں اثنا، امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو ہنگری کے دورے پر کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا مشکل ہوگا۔ مسٹر روبیو نے کہا کہ “مجھے لگتا ہے کہ یہاں سفارتی طریقے سے ایک معاہدے پر پہنچنے کا موقع ہے… لیکن میں اسے بڑھا چڑھا کر بھی پیش نہیں کرنا چاہتا۔” انہوں نے مزید کہا کہ “یہ مشکل ہونے والا ہے۔ کسی کے لیے بھی ایران کے ساتھ اصل معاہدہ کرنا بہت مشکل رہا ہے، کیونکہ ہم بنیاد پرست شیعہ علماء کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو مذہبی فیصلے کر رہے ہیں، جیو پولیٹیکل نہیں۔ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا آسان نہیں ہے، لیکن ہم کوشش کریں گے۔”

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version