ہومInternationalٹرمپ کا دعویٰ، تہران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے

ٹرمپ کا دعویٰ، تہران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

ترکی ثالثی کے لیے میدان میں، عباس عراقچی انقرہ پہنچ گئے

واشنگٹن،30جنوری(ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سے قبل امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے لیے جنگی بحری جہازوں کی روانگی کے ضمن میں وزیر دفاع پیٹ ہیگزیتھ نے بیان دیا تھا کہ فوج صدر ٹرمپ کے کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔جمعرات کی شام جب صحافیوں نے تہران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے سوال کیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا، “ہاں… میرا یہی ارادہ ہے… اس وقت ہمارے بہت سے بڑے اور انتہائی طاقت ور بحری جہاز ایران کی طرف بڑھ رہے ہیں اور یہ بہت اچھا ہوگا کہ ہمیں انہیں استعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑے”۔ تاہم انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں مذاکرات کی نوعیت یا وقت کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نہ یہ واضح کیا کہ واشنگٹن کی جانب سے ان مذاکرات کی قیادت کون کرے گا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی آج جمعہ کو ترکیہ کا دورہ کر رہے ہیں، جبکہ انقرہ نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی راستے کھولنے کی کوششوں کا اعلان کر رکھا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ بیانات ان امریکی حکام کی تصدیق کے ساتھ سامنے آئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ صدر اپنے تمام اختیارات پر غور کر رہے ہیں، لیکن ایران پر حملے کے حوالے سے انہوں نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق، واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں شدت گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر ایرانی حکام کے “خونی کریک ڈاؤن” کے بعد آئی تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا دھمکی دی تھی کہ اگر تہران نے مظاہرین کو نشانہ بنانا بند نہ کیا تو وہ مداخلت کریں گے۔ البتہ ابتر معاشی صورتحال کے خلاف ہونے والے ان مظاہروں کی شدت میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی خبردار کر رکھا ہے کہ اگر تہران نے گذشتہ جون (2025) میں اہم ایٹمی تنصیبات پر اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں کے بعد اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو وہ سخت کارروائی کریں گے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور ایران پر ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کو روکنے کے لیے ترکی نے بڑے پیمانے پر سفارتی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اہم مذاکرات کے لیے انقرہ پہنچ گئے ہیں۔ترک صدر رجب طیب اردوان خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث بن کر ابھرے ہیں۔ ترکی ایرانی قیادت کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کچھ لچک دکھائیں تاکہ کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔صدر اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک ‘ویڈیو کانفرنس ‘ کرانے کی تجویز پیش کی ہے، جو کہ گزشتہ ایک دہائی سے جاری براہِ راست مذاکرات کے تعطل کو توڑنے کی ایک بڑی کوشش ہو سکتی ہے۔ایک طرف جہاں سفارت کاری جاری ہے، وہیں واشنگٹن سے آنے والے پیغامات تاحال سخت ہیں۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ واضح کر چکے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی فوج ہر قسم کی کارروائی کے لیے الرٹ ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ معاہدے کے لیے ایران کے پاس وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ وہ جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیں گے۔ایران کی جانب سے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی اس وقت آئی ہے جب امریکی بحری بیڑے کی خطے میں آمد اور صدر ٹرمپ کی سخت دھمکیوں نے جنگ کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔ عباس عراقچی کا دورہ انقرہ اس حوالے سے انتہائی اہم ہے کہ آیا تہران ترکی کی ثالثی قبول کرتے ہوئے کوئی درمیانی راستہ نکالنے پر آمادہ ہوتا ہے یا نہیں۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version