واشنگٹن، 16 مارچ (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جزیرہ خارگ پر مزید حملوں کی دھمکی دے دی۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملوں نے ایران کے خارگ جزیرے کے زیادہ تر حصے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے جزیرے پر مزید حملوں کا انتباہ بھی دیا۔ان کا کہنا ہے کہ ہم محض تفریح کے لیے اسے چند بار مزید نشانہ بنا سکتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر ٹرمپ کے اس بیان پر عمل کیا جاتا ہے تو یہ صدر ٹرمپ کی پالیسی میں ایک واضح شدت تصور کی جائے گی، کیونکہ اس سے قبل وہ کہہ چکے ہیں کہ امریکا صرف خارگ جزیرے پر فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اپنی توانائی کی تنصیبات پر کسی بھی حملے کا جواب دے گا اور انہوں نے امریکی صدر کے بیان پر بھی شدید اعتراض کیا ہے۔انہوں نے امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر قانونی جنگ ہے جس میں کوئی فتح نہیں ہے، یہاں لوگوں کو صرف اس لیے مارا جا رہے ہے کہ صدر ٹرمپ تفریح کرنا چاہتے ہیں، یہ خود ان کے الفاظ ہیں۔عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ نے خارگ جزیرے پر متحدہ عرب امارات کے 2 مقامات راس الخیمہ اور دبئی سے قریب مقام سے حملہ کیا تھا۔انہوں نے اس کارروائی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کوشش کرے گا کہ ان علاقوں میں کسی بھی آبادی کو نشانہ نہ بنایا جائے۔دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ، جو کہ مشرقِ وسطیٰ میں کارروائیوں کی ذمے دار امریکی فوج کی جنگی کمان ہے، اس نے عباس عراقچی کے دعوے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
ایرانی جزیرے خارگ کو صرف تفریح کیلئے دوبارہ نشانہ بنا سکتے ہیں: ٹرمپ
مقالات ذات صلة
