سستے ایرانی ڈرونز نے مہنگے امریکی فضائی دفاعی نظام کی کمزوری بے نقاب کردی
واشنگٹن، 6 مارچ (یو این آئی)ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے اور ایران کے جوابی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ سے لاکھوں امریکی شہریوں کا انخلا امریکہ کے لیے نیا چیلنج بن گیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے میں دو لاکھ سے زائد امریکی موجود ہیں، 18 ہزار شہری مشرق وسطیٰ سے امریکہ واپس پہنچ چکے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات میں 50 ہزار، قطر میں 15 ہزار، کویت میں 30 ہزار اور سعودی عرب میں 80 ہزار امریکی شہری مقیم ہیں۔امریکہ نے ان ملکوں میں مقیم اپنے شہریوں کو نکلنے کی ہدایت کی ہے لیکن فلائٹس دستیاب نہیں ہیں۔ دوسری جانب کویت میں امریکی سفارتخانے کی سرگرمیاں معطل کر رکھی ہیں۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک بڑھتے ہوئے اسٹریٹیجک چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ ایران بڑی تعداد میں کم قیمت حملہ آور ڈرونز استعمال کر کے دنیا کے جدید اور مہنگے فضائی دفاعی نظام کو چیلنج کر رہا ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد ایران نے اب تک 2000 سے زائد شاہد خودکش ڈرونز داغے ہیں، جن میں سے بعض سخت دفاعی اقدامات کے باوجود اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔شاہد ڈرون تکون نما لوئٹرنگ میونیشن ہے جس کی لمبائی تقریباً 11 فٹ ہوتی ہے اور اس میں دھماکہ خیز مواد نصب ہوتا ہے، یہ ڈرون ٹرک کے عقب سے بھی لانچ کیا جاسکتا ہے، جس کے باعث اسے پہلے سے شناخت کرنا اور تباہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے، اس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ماڈلز تقریباً 1200 میل تک پرواز کرسکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایک شاہد ڈرون کی قیمت تقریباً 20 ہزار سے 50 ہزار ڈالرز کے درمیان ہے، جبکہ اسے مار گرانے کے لیے استعمال ہونے والا پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کا PAC-3 انٹرسیپٹر میزائل ایک فائر میں 30 لاکھ ڈالرز سے زائد لاگت رکھتا ہے اور اس کی پیداوار بھی محدود ہے۔رپورٹ کے مطابق 2025ء میں لاک ہیڈ مارٹن نے صرف 620 انٹرسیپٹر فراہم کیے۔امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق امریکہ دستیاب تمام اینٹی ڈرون سسٹمز استعمال کر رہا ہے، جن میں نسبتاً سستا ری تھیون کا کوایوٹ انٹرسیپٹر اور الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی بھی شامل ہیں۔دفاعی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر سستے ڈرونز کے مقابلے میں مہنگے میزائل استعمال کیے جاتے رہے تو طویل جنگ کی صورت میں یہ حکمتِ عملی اقتصادی طور پر ناقابلِ برداشت ثابت ہوسکتی ہے۔اسی خدشے کے پیش نظر پینٹاگون نے کم لاگت امریکی ڈرونز کی پیداوار تیز کردی ہے ، جن میں لوکس (LUCAS) نامی ایک نیا ڈرون سسٹم بھی شامل ہے جو شاہد ڈرون کے طرز پر تیار کیا جا رہا ہے۔
