واشنگٹن، 10 مارچ (یو این آئی) ایران کے خلاف جنگ امریکہ کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے اور امریکی عوام اپنے ٹیکسز کی رقم کے بے دریغ خرچ پر نالاں ہیں۔ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو آج 11 واں روز ہے۔ دعوؤں کے برعکس ایران کے خلاف یہ جنگ بھاری اخراجات کے باعث امریکہ کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے اور امریکی عوام اپنے ٹیکسز کے پیسے کا یوں زیاں دیکھ کر ٹرمپ انتظامیہ سے تنگ آگئے ہیں۔ایران جنگ سے متعلق سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے چشم کشا رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی ٹیکس دہندگان کو ایران کے خلاف جنگ روزانہ 890 ملین ڈالرز کی پڑی رہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کیخلاف فضائی کارروائیوں پر روزانہ تقریباً 30 ملین ڈالرز خرچ ہو رہے ہیں۔ فوجی نقل وحرکت اور مشقوں پر 15 ملین ڈالرز یومیہ جب کہ زمینی کارروائیوں پر 1.6 ملین ڈال رروزانہ کے اخراجات ہیں۔امریکہ دھماکوں، بموں، میزائلوں اور توپ خانے پر تقریباً 1.5 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے والے انٹرسیپٹر سسٹمز پر 1.7 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر جنگ 2 ماہ تک جاری رہی تو اس کی لاگت 95 ارب ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے۔ایک سروے میں امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد ایران جنگ کے خلاف ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ حکومت جنگ پر جنگ پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالرز کو امریکی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے۔
ایران کے خلاف جنگ امریکہ کو مہنگی پڑ رہی ہے
مقالات ذات صلة
