تہران،27جنوری(ہ س)۔ایک ایسے وقت میں جب امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے پاس ایران کے قریب ایک بڑا جنگی بحری بیڑا موجود ہے، ایران کی وزارت صحت نے ہدایت دی ہے کہ حالیہ مظاہروں میں زخمی ہونے والے لوگ علاج کے لیے ہسپتال جائیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز زخمی مظاہرین کو گرفتار کر رہی ہیں اور سفاکیت کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ایرانی حکومت نے ہلاک شدگان کی تعداد 3117 افراد بتائی ہے، جن میں 2427 شہری اور سکیورٹی فورسز کے افراد ہیں اور باقی کو ایرانی حکومت نے’دہشت گرد‘ قرار دیا ہے۔دوسری طرف انسانی حقوق کے کارکنوں نے بتایا کہ ایران کی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے سر اور جسم پر براہ راست فائرنگ کی، ہسپتالوں اور گھروں پر چھاپے مارے تاکہ زخمیوں کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کیا جا سکے۔اسی دوران امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس ابراہیم لنکن‘مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے، جبکہ امریکی نیوی نے بحر ہند میں اپنی فضائی فورسز کی شرکت سے جاری تیاری کی مشقوں کی تصاویر جاری کی ہیں۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں وہ خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔اس سے قبل ’آکسیس‘ ویب سائٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے کہا کہ امریکہ کے پاس ایران کے قریب ایک بہت بڑا بیڑا موجود ہے، جسے انہوں نے وینزویلا کے بیڑے سے بھی بڑا قرار دیا، جو مادورو کی گرفتاری سے پہلے موجود تھا۔تاہم ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ سفارت کاری کا راستہ اب بھی کھلا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے انہیں متعدد بار رابطہ کیا ہے اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔اسی دوران “آکسیس” کے نامہ نگاروں نے بتایا کہ امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا اور امکان ہے کہ ٹرمپ مزید مشاورت کریں گے اور عسکری آپشنز پر غور کریں گے۔ایران میں احتجاجی مظاہرے 28 دسمبر کو شروع ہوئے، جس کی وجہ ایرانی کرنسی (ریال) کی گراوٹ تھی۔ یہ مظاہرے ملک بھر میں پھیل گئے، جبکہ انٹرنیٹ دو ہفتوں سے زائد عرصے تک بند رہا، جو ملک کی تاریخ میں سب سے طویل بندش ہے۔
ایرانی حکومت کا احتجا ج کے دوران زخمی ہونے والوں کواسپتالوں میں جانے کی ہدایت
مقالات ذات صلة
