ہومInternationalمشرقِ وسطیٰ میں جنگ سے متاثرہ معیشتوں کو 50 ارب ڈالر تک...

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ سے متاثرہ معیشتوں کو 50 ارب ڈالر تک فراہم کیے جاسکتے ہیں:آئی ایم ایف

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

واشنگٹن، 10 اپریل (یو این آئی) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ سے متاثرہ کمزور معیشتوں کی بحالی کے لیے 50 ارب ڈالر تک فراہم کیے جا سکتے ہیں۔آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے بیان میں خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے معاشی اثرات دیرپا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث غذائی عدم تحفظ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ساڑھے چار کروڑ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کرسٹالینا جارجیوا کا مزید کہنا تھا کہ اگر فوری طور پر جنگ بندی ہو بھی جائے، تب بھی معاشی صورتحال کی پہلے جیسی سطح پر واپسی فی الحال ممکن نہیں۔ آئی ایم ایف مشرقِ وسطیٰ کے اس بحران کے معیشت پر پڑنے والے تفصیلی اثرات سے متعلق جامع رپورٹ 2026 میں جاری کرے گا۔دوسری جانب بدھ کے روز ورلڈ بینک نے کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ جنگ کی وجہ سے سنگین اور فوری معاشی نقصان” کا شکار ہوا ہے۔ ورلڈ بینک نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کے علاوہ خطے کی مجموعی معاشی ترقی کی شرح 2026 میں سست ہو کر صرف 1.8 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو کہ گزشتہ سال 4 فیصد تھی۔ یہ جنگ سے پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں 2.4 فیصد پوائنٹس کی کمی ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین کی متاثرہ صورتحال کے باعث عالمی افراطِ زر کے تخمینے میں اضافے کی توقع ہے۔ بدھ کو واشنگٹن میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہان نے جنگ کے معاشی اثرات اور غذائی تحفظ پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا تیل، گیس اور کھاد کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور نقل و حمل کی رکاوٹیں ناگزیر طور پر خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور غذائی عدم تحفظ کا باعث بنیں گی۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے جنگ کے باعث توانائی کی مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے ایک کوآرڈینیشن گروپ بھی تشکیل دیا ہے، جس کا اعلیٰ سطح کا اجلاس پیر کو ہوگا۔اس ہفتے ایک نئی رپورٹ میں آئی ایم ایف نے جنگ کے معاشی نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے تخمینہ لگایا ہے کہ جن ممالک میں جنگ ہوتی ہے وہاں پیداوار میں آغاز ہی میں تین فیصد تک کمی آتی ہے اور یہ کئی سالوں تک گرتی رہتی ہے۔ ایران جنگ سے متعلق ایک سابقہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ تمام راستے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سست معاشی ترقی کی طرف جاتے ہیں، اور اس میں کھاد کی سپلائی چین میں شدید خلل کے باعث غذائی تحفظ پر پڑنے والے اثرات کو نمایاں کیا گیا تھا۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.