شنظام کے کمانڈ ہیڈکوارٹر کی تباہی کے مناظر جاری
تہران یکم مارچ (ایجنسی) امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی پولیس انٹیلیجنس کے سربراہ ہلاک ہو گئے، جس کی تصدیق مقامی ذرائع ابلاغ نے اتوار کو کی۔خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق بریگیڈیئر غلام رضا رضائیان سربراہ انٹیلیجنس پولیس گزشتہ روز کے حملوں کے بعد مارے گئے۔ادھر اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں پر کی جانے والی اپنی فضائی کارروائیوں کی ویڈیوز جاری کیں، جن میں تہران کے قلب میں واقع ایرانی نظام کے ایک کمانڈ ہیڈکوارٹر اور پاسدارانِ انقلاب اسکوائر کی تباہی کے مناظر بھی شامل ہیں۔ایرانی سرکاری ٹی وی نے اتوار کو یہ بھی اطلاع دی کہ ملک کے وزیرِ دفاع عزیز ناصر زادہ اور مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی بھی فضائی حملوں میں مارے گئے۔سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق دونوں اعلیٰ فوجی عہدیدار مجلسِ دفاع کے اجلاس پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوئے۔تہران نے اس غیر معمولی حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی، جس کا آغاز امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل اور بعض عرب ممالک کو نشانہ بنایا۔ایرانی حکام کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد باقری (یا محمد باکپور) اور رہبرِ انقلاب کے مشیر علی شمخانی بھی مارے گئے۔خامنہ ای کی ہلاکت کے سرکاری اعلان کے بعد ایران میں چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا، جبکہ بعض ایرانی ذرائع ابلاغ نے ان کے اہلِ خانہ کے چند افراد کی ہلاکت کی بھی اطلاع دی۔اسرائیل نے ہفتے کی صبح ایران پر حملے کا آغاز کیا جسے اس نے، شیر کی دھاڑ ،کا نام دیا، جبکہ واشنگٹن نے اسے اسرائیل کے ساتھ مشترکہ اور وسیع پیمانے کی کارروائی قرار دیتے ہوئے “شدید و طوفانی غضب” کا نام دیا اور کہا کہ اس کا مقصد ایرانی حکومت کا خاتمہ ہے۔امریکی صدر کے مطابق حملے کا ہدف ایران کی عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنا اور اس کی دھمکیوں کا خاتمہ تھا۔2003 میں عراق پر حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی بڑی فوجی کارروائی قرار دی جا رہی ہے، جس کے لیے امریکا نے خطے میں بڑی بحری اور فضائی قوت تعینات کی تھی۔جواباً تہران نے اسرائیل اور ان عرب ممالک کی جانب میزائل داغے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اور انہیں “جائز اہداف” قرار دیا۔
