ہومInternationalمشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ سے خلیج کی آبی حیات اور پرندوں...

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ سے خلیج کی آبی حیات اور پرندوں کو خطرہ

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

تہران میں ایندھن کے ذخائر پر اسرائیلی حملے ماحول اور زیرِ زمین پانی کو آلودہ کر رہے ہیں

لندن، 18 مارچ (یو این آئی) امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی سے صرف انسانی جانوں کو ہی نہیں بلکہ آبی حیات اور پرندوں کو بھی خطرہ ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ماحولیاتی نظام موسمیاتی تبدیلی اور سمندری ٹریفک کی وجہ سے دباؤ کا شکار تھا۔برطانوی فلاحی ادارے کنفلیکٹ اینڈ انوائرمنٹ آبزرویٹری کی جانب سے 10 مارچ کو جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد خطے میں ماحولیاتی خطرات سے متعلق 300 سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں آئل ٹینکرز پر حملے بھی شامل ہیں۔اوسطاً 50 میٹر گہرا خلیج فارس آبنائے ہرمز کے ذریعے بحر ہند سے جڑا ہوا ہے اور اس کا یہ جغرافیہ اس کے ماحولیاتی نظام کو کمزور بناتا ہے۔خلیج فارس میں پانی کی سست تجدید، ہر 2 سے 5 سال میں تیل یا دیگر مختلف اقسام کی آلودگی کے پھیلاؤ کو محدود کرتی ہے۔یہ خطہ ڈوگونگز کی دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی کی میزبانی کرتا ہے، جنہیں ’سمندری گائے‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو کہ پہلے ہی معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ایک اندازے کے مطابق ڈوگونگز کی تعداد اس وقت 5 ہزار سے 7 ہزار 500 کے درمیان ہے۔خلیج فارس میں دیگر مختلف آبی حیات بھی پائی جاتی ہیں، جن میں ہمپ بیک وہیل اور وہیل شارک بھی شامل ہیں۔خلیج فارس کے گرم پانیوں میں مجموعی طور پر 2 ہزار سے زائد سمندری انواع موجود ہیں، جن میں مچھلیوں کی 500 سے زیادہ اقسام اور سمندری کچھوؤں کی 5 اقسام شامل ہیں۔سمندری کچھوؤں کی اقسام میں ہاکس بل سمندری کچھوؤں کو شدید خطرہ ہے۔خلیج فارس میں مرجان کی تقریباً 100 انواع بھی موجود ہیں، جو مینگرووز اور سمندری گھاس کے ساتھ مل کر مچھلیوں اور کرسٹیشینز کے لیے ضروری افزائش اور نرسری کی بنیاد بناتے ہیں۔یکم مارچ سے اب تک یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) کو آئل ٹینکرز پر حملوں سمیت 9 مختلف واقعات کی اطلاع دی گئی ہے، جن میں سے 8 کی انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے تصدیق بھی کی ہے۔علاوہ ازیں 3 حملوں کی ذمے داری تو خود پاسدارنِ انقلاب نے قبول کی ہے حالانکہ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ان تینوں حملوں میں سے کسی ایک کی بھی تصدیق نہیں کی گئی۔اس حوالے سے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران میں ایندھن کے ذخائر پر اسرائیلی حملے ماحول اور زیرِ زمین پانی کو آلودہ کر رہے ہیں، جو لوگوں کی صحت کے لیے طویل مدتی خطرات کا باعث ہے۔کئی رپورٹس کے مطابق1991ء میں خلیجی جنگ کے دوران جب عراقی افواج نے کویت میں جان بوجھ کر تیل کے والوز کھولے اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا تو 11 ملین بیرل تیل سمندر کے پانی میں پھیل گیا، جس نے 640 کلومیٹر سعودی ساحلی پٹی کو آلودہ کیا اور 30 ہزار سے زیادہ سمندری پرندے مارے گئے۔خلیجی جنگ کے بعد اس صورتِ حال کو معمول پر آنے میں کئی دہائیاں لگ گئیں۔صرف تیل سے سمندر میں پیدا ہونے والی آلودگی ہی نہیں بلکہ بم دھماکوں کی خوفناک آوازیں بھی سمندری پرندوں کے لیے خطرناک ہیں۔جزیرہ نما عرب یورپ، وسطی ایشیاء، افریقا اور جنوبی ایشیاء کو آپس میں جوڑنے والے بڑے ہجرت کے راستوں کے سنگم پر موجود ہے، اس لیے جنگوں کے دوران دھماکوں کا شور اور زہریلا دھواں سمندری پرندوں کی نقل مکانی کو متاثر کر سکتا ہے۔علاوہ ازیں سمندری بارودی سرنگیں اور دیگر دھماکہ خیز آلات آبی حیات اور سمندر کے اندر قدرتی ڈھانچے جیسے کہ چٹانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔2003ء اور 2020ء میں نیچر اور رائل سوسائٹی جریدے میں شائع ہونے والی 2 تحقیقات کے نتائج میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ دھماکا خیز آلات کے استعمال کی وجہ سے آبی حیات کی نقل و حرکت متاثر ہوتی ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.