ہومInternationalمسلم ریزرویشن کی منسوخی پر عدالت سخت؛بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر حکومت...

مسلم ریزرویشن کی منسوخی پر عدالت سخت؛بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر حکومت سے جواب طلب کر لیا

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

ممبئی،5 اپریل ( یواین آئی) مہاراشٹر میں مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمت میں دیے گئے پانچ فی صد ریزرویشن کو منسوخ کرنے کے خلاف دائر عرضداشت پر اہم پیش رفت کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے اور اس معاملے پر اپنا واضح موقف پیش کرنے کی ہدایت دی ہے عدالت نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ عرضداشت میں اٹھائے گئے آئینی و قانونی نکات پر تفصیلی حلف نامہ داخل کرے۔یہ معاملہ جسٹس ریاض چگلا اور جسٹس ادویت سیٹھنا پر مشتمل ڈیویژن بنچ کے روبرو پیش ہوا، جس نے ابتدائی سماعت کے بعد کیس کی اگلی شنوائی 4 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے حکومت کو اپریل کے آخر تک جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔عدالت نے درخواست گزار کو عرضداشت میں ضروری ترامیم کرنے اور حکومت کے جاری کردہ جی آر (گورنمنٹ ریزولوشن) سمیت دیگر متعلقہ دستاویزات انگریزی ترجمے کے ساتھ پیش کرنے کا بھی حکم دیا۔درخواست گزار ایڈوکیٹ سیّد اعجاز نقوی نے ریاستی حکومت کے 17 فروری کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام آئین کی بنیادی روح اور سماجی انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ ان کے مطابق 2014 کے آرڈیننس کے تحت مسلم سماج کے تقریباً 50 پسماندہ طبقات کو تعلیم اور ملازمت میں پانچ فی صد ریزرویشن دیا گیا تھا، جسے موجودہ حکومت نے بغیر کسی معقول جواز کے منسوخ کردیا۔ نقوی نے الزام عائد کیا کہ یہ فیصلہ مذہبی بنیاد پر امتیاز کا مظہر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2014 میں اس ریزرویشن کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا، جس کے بعد عدالت نے اسے تعلیم کے شعبے میں برقرار رکھا، جب کہ سرکاری ملازمتوں کے لیے اسے محدود کر دیا گیا۔ تب سے اب تک مسلم کمیونٹی کے پسماندہ طبقات اس تعلیمی کوٹے سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، لیکن موجودہ حکومت نے اسے ختم کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ پیش نہیں کی۔اس فیصلے پر سیاسی و سماجی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ عارف نسیم خان ، مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے کارگزار صدر اور سابق وزیر، نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، “مسلمانوں کو 2014 میں پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دیا گیا تھا، جسے عدالت نے بھی تعلیم کے میدان میں برقرار رکھا۔ اس کے باوجود موجودہ حکومت نے اسے صرف مذہبی بنیاد پر ختم کیا، جو سراسر ناانصافی ہے۔ حکومت کو فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے ریزرویشن بحال کرنا چاہیے۔”ممبئی کانگریس کے جنرل سکریٹری آصف فاروقی نے عدالت کے نوٹس کو سراہتے ہوئے کہا، “یہ قدم اس بات کی دلیل ہے کہ عدلیہ اب بھی آئینی اقدار اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔ مہاراشٹر جیسی ترقی پسند ریاست کو برابری اور شمولیت کے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے۔”کانگریس کے ریاستی ترجمان نظام الدین راعین نے بھی عدالت کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے محض مسلمانوں سے وابستگی کی بنیاد پر اس کوٹے کو ختم کیا، جبکہ عدالت کی مداخلت اس بات کا ثبوت ہے کہ آئینی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ادھر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (اجیت پوار گروپ) کے اقلیتی شعبہ کے چیئرمین ایڈوکیٹ سید جلال الدین نے کہا، “یہ مثبت پیش رفت ہے کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، لیکن سیاسی قیادت کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے دور اقتدار میں اسے مضبوط قانونی شکل دیتی۔ صرف آرڈیننس کے ذریعے ایسے اہم فیصلے دیرپا نہیں بن سکتے۔”یہ معاملہ نہ صرف مہاراشٹر بلکہ ملک بھر میں ریزرویشن پالیسی، آئینی حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق ایک اہم بحث کو جنم دے رہا ہے۔ اب تمام نظریں آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں عدالت اس حساس معاملے میں مزید رہنمائی فراہم کرے گی۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.