اپوزیشن کا پارلیمنٹ ہاوس کے باہر دھرنا آج سے
اسلام آباد، 13 فروری (ہ س)۔ پاکستان کی نیشنل اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اعلان کیا ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں آج سے پارلیمنٹ ہاو?س کے باہر دھرنا شروع کریں گی۔ اچکزئی نے جمعرات کی دیر رات راجدھانی اسلام آباد میں صحافیوں کے سامنے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اپوزیشن لیڈروں کی ایک میٹنگ میں لیا گیا۔جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اس سے پہلے دارالحکومت میں ہوئی میٹنگ میں متفقہ طور پر فیصلہ لیا گیا کہ جب تک جیل میں بند پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور معزول وزیر اعظم عمران خان تک پہنچنے کی اجازت نہیں مل جاتی اور ان کی پارٹی اور خاندان کی تسلی کے حساب سے ان کا علاج پکا نہیں ہو جاتا، تب تک احتجاج جاری رہے گا۔اچکزئی نے دیر رات میڈیا سے کہا کہ دھرنا و مظاہرہ پارلیمنٹ ہاوس کے باہر پرامن رہے گا۔ ان کے ساتھ مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر علی خان اور اسد قیصر بھی موجود تھے۔انہوں نے یہ بھی صاف کیا کہ اپوزیشن اتحاد کے مطالبات دھرنے پر ہی سب کے سامنے رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم کل (جمعہ) دھرنے پر اپنے مطالبات رکھیں گے۔‘‘ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ جب تک یہ مطالبات مان نہیں لیے جاتے، دھرنا غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ اس دوران اگر کچھ بھی برا ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت کی ہوگی۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ احتجاج جمعہ کی صبح امن سے شروع ہوگا۔ انہوں نے اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ اور حامیوں سے دھرنے اور مظاہرے میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔قابل ذکر ہے کہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں بند ہیں۔ وہ بدعنوانی سے لے کر دہشت گردی تک کے کئی معاملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج جیل میں بند عمران کی صحت سے منسلک تشویش پر مرکوز ہے۔ خاص کر ان تک رسائی اور ان کے علاج کو لے کر۔ سپریم کورٹ کو سونپی گئی سات صفحات کی رپورٹ کے بعد پوری اپوزیشن لامبند ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کے مطابق، عمران خان کی داہنی آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی چلی گئی ہے۔ 10 فروری کو سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر کو ’ایمیکس کیوری‘ (عدالت کا معاون) مقرر کیا تھا۔ انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بند سابق وزیر اعظم سے ملنے اور 11 فروری کو رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت دی تھی۔عدالتی ہدایات پی ٹی آئی بانی کے اڈیالہ جیل میں رہنے کی صورتحال سے منسلک ایک معاملے کی سماعت کے دوران آئیں۔ اس معاملے کی سماعت پاکستان کے چیف جسٹس (سی جے پی) یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن کی بنچ نے کی۔ عمران کو مہینوں تک مسلسل دھندلی نظر کا مسئلہ تھا۔ اس کے بارے میں انہوں نے بار بار جیل حکام کو بتایا، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ایک ماہر نے آخر کار ’بلڈ کلاٹ‘ کا پتہ لگایا، جس سے کافی نقصان ہوا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ عمران کی صحت سے منسلک مسئلے میں حکومت نے مجرمانہ غفلت برتی۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پی ٹی آئی بانی کی نظر بہت دھندلی ہو چکی ہے۔ ان کے ساتھ حکومت نے بہت بڑا گناہ کیا ہے۔
