واشنگٹن کی ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں اور ہرمز میں ایرانی مشقیں جاری
واشنگٹن 17 فروری(ایجنسی) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ کے دورے کے دوران اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا ایک مشکل امر ہوگا، تاہم واشنگٹن اس سلسلے میں اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے گا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مارکو روبیو نے ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانا مشکل کام ہے، ہم ہمیشہ سے یہی کہتے آئے ہیں کہ یہ کٹھن ہے لیکن ہم کوشش کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے مذاکرات کار اس وقت وہاں جا رہے ہیں جہاں وہ ملاقاتیں کریں گے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہوتا ہے، ہمیں امید ہے کہ کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔دوسری جانب زمینی صورتحال یہ ہے کہ جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے آغاز سے ایک روز قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے پیر کو سٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ان مشقوں کا مقصد، جن کا دورانیہ واضح نہیں کیا گیا، خطے میں امریکہ کی بڑی بحری قوت کی تعیناتی کے بعد آبنائے ہرمز میں ممکنہ سکیورٹی اور فوجی خطرات سے نمٹنے کے لیے پاسداران انقلاب کو تیار کرنا ہے۔ واضح رہے کہ تہران ماضی میں کئی بار آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دے چکا ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی کل پیداوار کا تقریبا 20 فیصد گزرتا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ سفارتی راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پابندیوں کا خاتمہ ہمارے مفادات سے جڑا ایک ناگزیر معاملہ ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تفصیلات کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ادھر جنیوا میں ہی پیر کے روز عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ گروسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ انہوں نے منگل کو جنیوا میں ہونے والے اہم مذاکرات کی تیاری کے سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ تفصیلی تکنیکی بات چیت مکمل کر لی ہے۔تہران کے مطابق عمان کی ثالثی میں بلاواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور منگل سے شروع ہو رہا ہے، جبکہ پہلا دور سنہ 2024 فروری کے آغاز میں سلطنت عمان میں ہوا تھا جب امریکہ کی جانب سے فوجی مداخلت کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نے انکشاف کیا ہے کہ یہ بلاواسطہ مذاکرات جنیوا میں عمانی سفارت خانے کے اندر ہوں گے۔ امریکی جانب سے وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر ان مذاکرات میں شرکت کے لیے جنیوا پہنچیں گے۔یوکرین کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکہ تنازعے کے فریقین پر اپنی مرضی کا کوئی معاہدہ مسلط نہیں کر رہا، بلکہ صرف نقطہ نظر کو قریب لانے کے لیے مدد کی پیشکش کر رہا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہماری تمام تر کوشش یہ ہے کہ اگر ممکن ہو سکے تو کسی معاہدے تک پہنچنے میں اپنا کردار ادا کریں، ہم کسی پر کوئی حل مسلط کرنے کی کوشش نہیں کر رہے اور نہ ہی کسی فریق کو ایسا معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کر رہے ہیں جو اسے پسند نہ ہو، ہم صرف ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے عہد کیا کہ ان کا ملک یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا کیونکہ اس مقصد میں کامیابی سے دنیا ایک بہتر جگہ بن جائے گی۔
