ہومInternationalبنگلہ دیش میں طارق رحمٰن کی جماعت بی این پی کی فتح

بنگلہ دیش میں طارق رحمٰن کی جماعت بی این پی کی فتح

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

213 نشستوں کے ساتھ دو تہائی اکثریت حاصل کر لی؛ جماعت اسلامی کی امیدوں کو بڑا دھچکا

ڈھاکہ، 13 فروری:۔ (ایجنسی) بنگلہ دیش کے تیرہویں پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے 300 رکنی قومی پارلیمنٹ میں 213 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔ الیکشن نتائج کے مطابق جماعت اسلامی کو 68 نشستیں ملی ہیں جبکہ دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے حصے میں 12 نشستیں آئی ہیں۔ اس طرح بی این پی نے اپنے اندازوں کو درست ثابت کرتے ہوئے نئی حکومت بنانے کی راہ ہموار کر لی ہے۔بعد ازاں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی طارق رحمن کو شاندار کامیابی پر مبارکباد دی اور جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے نئی قیادت کے ساتھ کام کرنے کی امید ظاہر کی۔ بی این پی کے چیئرمین طارق رحمن نے نتائج کے بعد کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فتح کے جلوس نکالنے کے بجائے جمعہ کی نماز ادا کریں اور ملک کی بھلائی کے لیے دعا کریں۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ سرکاری نتائج کے بعد باقاعدہ دعائیہ اجتماع منعقد کیا جائے گا۔یہ انتخابات 2024 کی بڑی عوامی تحریک کے بعد پہلی بار منعقد ہوئے۔ انتخابی عمل عبوری حکومت کے سربراہ مشیر محمد یونس کی نگرانی میں انجام پایا۔ عوام نے نئی پارلیمنٹ کے انتخاب کے ساتھ ساتھ آئینی مجوزہ ترامیم پر بھی رائے دی۔بی این پی کے سربراہ طارق رحمن نے ڈھاکہ 17 اور بوگورا 6 سمیت دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ عوامی لیگ کو اس بار انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں ملی جبکہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے بیرون ملک سے اس انتخابی عمل کو نمائشی قرار دیا۔ طلبہ قیادت میں قائم نیشنل سٹیزن پارٹی کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی اور وہ محدود نشستوں تک سمٹ گئی۔ مبصرین کے مطابق ان نتائج سے بنگلہ دیش کی آئندہ سیاسی سمت اور خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد یہ بنگلہ دیش کا پہلا بڑا انتخاب تھا۔ سترہ برس بعد طارق رحمن کی جماعت کی واپسی کو جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق تین سو رکنی قومی پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے اتحاد نے دو سو نو نشستیں حاصل کر کے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔ادھر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کارکنوں اور حامیوں سے جشن نہ منانے کی اپیل کی ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ فتح کا جشن منانے کے بجائے جمعہ کی نماز ادا کی جائے اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کو یاد کیا جائے۔ ہندوستان کی جانب سے فوری مبارکباد کو نئی حکومت کے ساتھ تعلقات کو مضبوط رکھنے کے واضح اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور معاشی تعاون کے نئے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version