ماسکو، 22 جنوری (یو این آئی) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر مشروط رضا مندی ظاہر کردی ہے اور کہا کہ منجمد اثاثوں سے روس ایک ارب ڈالر دینے کے لیے تیار ہے۔صدر پوتن نے کہا کہ امریکہ میں منجمد کیے گئے روسی اثاثوں میں سے ایک ارب ڈالر لے سکتا ہے، بورڈ آف پیس کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے اور روس اس مقصد کے لیے عملی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ بین القوامی نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کی حمایت کی ہے، جب کہ موجودہ امریکی انتظامیہ یوکرین بحران میں کردار ادا کر رہی ہے۔امریکا کی گرین لینڈ کے حصول کی کوششوں پر بات کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ یہ معاملہ تشویش کا باعث نہیں، امریکہ کا گرین لینڈ خریدنے کا خیال انیسویں صدی میں روس کی جانب سے الاسکا کی فروخت جیسا ہے۔ اگر اُس وقت الاسکا کی فروخت کو مدنظر رکھا جائے تو آج کے دور میں گرین لینڈ کی ممکنہ قیمت 200 سے 250 ملین ڈالر کے درمیان ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے پہلے چارٹر کا باضابطہ طور پر اعلان کرنے والے ہیں، جو بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ایک ادارہ ہے جس کی مستقل رکنیت کے لیے 1 بلین ڈالر کی قیمت رکھی گئی ہے۔وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے بدھ کو کہا کہ اب تک تقریباً 35 عالمی رہنماؤں نے بھیجے گئے 50 یا اس سے زیادہ دعوت ناموں میں سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا عہد کیا ہے۔
ایک ارب ڈالر منجمد اثاثوں سے لے لیں پوتن کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے شرط
مقالات ذات صلة
