تل ابیب 29 مارچ (ایجنسی) ایران کے خلاف جاری جنگی محاذ پسِ پردہ چلتے سفارتی مذاکرات اور خطے میں بڑھتی کشیدگی اسی ہنگامہ خیز پس منظر میں سامنے آنے والا ایک نیا سروے اسرائیلی سیاست میں ہلچل مچا گیا۔ نتائج نے نہ صرف عوامی بے چینی کو آشکار کیا بلکہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں پر بھی بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے، جس سے ان کی قیادت ایک بار پھر دباؤ میں آ گئی ہے۔ہفتہ واری رائے شماری کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ عوام کی بڑی اکثریت ایران اور لبنان دونوں کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے حامی ہیں۔اسرائیلی چینل 12 کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق 60 فیصد اسرائیلی ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے حق میں ہیں، جبکہ حکمران دائیں بازو کے اتحاد کے حامیوں میں یہ شرح بڑھ کر 85 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔دوسری جانب 29 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ جنگ اب ختم کر دینی چاہیے، جبکہ 11 فیصد نے “نہیں معلوم” کا جواب دیا۔لبنان کے خلاف جنگ کے حوالے سے 67 فیصد اسرائیلی اس کے تسلسل کے حامی ہیں، جبکہ صرف 22 فیصد اسے فوری ختم کرنے کے حق میں ہیں۔اسی طرح فوج کے سربراہ ایال زامیر کو 10 میں سے 7اعشاریہ3، جبکہ موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا کو 7اعشاریہ1 نمبر دیے گئے۔اس کے برعکس وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو صرف 5اعشاریہ6، وزیر دفاع اسرائیل کاتز کو 5 اور وزیر خزانہ سموٹریچ کو 3 نمبر ملے۔کامیابی کے معیار کے حوالے سے 52 فیصد اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ ایرانی نظام کا خاتمہ ایک بڑی کامیابی ہوگا، جبکہ 49 فیصد کے نزدیک افزودہ یورینیم کی تباہی یا ضبطی کامیابی تصور ہوگی۔مزید یہ کہ 42 فیصد نے ایران کے ہتھیاری اور میزائل پروگرام کو شدید نقصان پہنچانے کو “فتح” قرار دیا، جبکہ 6 فیصد کے مطابق آبنائے ہرمز کا کھلنا کامیابی ہوگی اور 10 فیصد نے لاعلمی کا اظہار کیا۔تاہم یہ نتائج اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے اطمینان بخش نہیں رہے۔ نیتن یاہو کے قریبی ایک سیاسی ذریعے کے مطابق وہ ان نتائج پر شدید تشویش کا شکار ہیں، کیونکہ وہ انہیں اس بات کا ثبوت سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی عوام ایران کے خلاف مہم کی کامیابی سے قائل نہیں اور نہ ہی انہیں اس کی قیادت میں کامیاب تصور کرتے ہیں، جیسا کہ اسرائیلی چینل 12 نے رپورٹ کیا۔چینل کے مطابق نیتن یاہو اب اس حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں کہ عوامی حمایت کے باوجود لوگ حکومت کے بار بار کیے جانے والے بڑے دعوؤں پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ ان کی جنگی حکمتِ عملی کو منفی انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ادھر سابق وزیرِاعظم اور آئندہ انتخابات میں مضبوط امیدوار نفتالی بینیٹ نے ان نتائج کو نیتن یاہو پر تنقید کے لیے استعمال کیا۔انہوں نے کہا: وہ کام شروع کرنا تو جانتے ہیں، مگر انہیں ختم کرنا نہیں آتا۔
نیتن یاہو پر دباؤ اسرائیلیوں نے ایران جنگ کو ناکام قرار دے دیا:سروے
مقالات ذات صلة
