واشنگٹن 02 مارچ2026ء(ایجنسی) پینٹاگون کا یہ اعتراف سامنے آیا ہے کہ ایسی کوئی خفیہ معلومات موجود نہیں تھیں جن سے ظاہر ہوتا کہ ایران پہلے امریکی افواج پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی کانگریس کو دی جانے والی ایک بریفنگ میں سامنے آنے والی باتوں نے جنگ کے حق میں پیش کیے گئے ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہم مؤقف کو کمزور کردیا جس میں امریکی سینئر حکام نے صحافیوں کو یہ بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر پہلے حملہ کرنے کا فیصلہ جزوی طور پر ان اشاروں کی بنیاد پر کیا کہ ایرانی فوج مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج پر شاید پیشگی طور پر حملہ کرسکتی ہے۔بتایا گیا ہے کہ یہ بات اس وقت غلط ثابت ہوئی جب پینٹاگون کے عہدیداروں نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی قومی سلامتی سے متعلق متعدد کمیٹیوں کے ڈیموکریٹ اور ریپبلکن عملے کو ایران میں جاری امریکی کارروائی پر 90 منٹ سے زائد بریفنگ دی، جس میں کہا گیا کہ ایسے کوئی اشارے نہیں تھے کہ ایران پہلے حملہ کرنے والا ہے، ایران کے بیلسٹک میزائل اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروہ امریکی مفادات کے لیے فوری خطرہ ہیں، تاہم ایسی کوئی خفیہ اطلاع موجود نہیں تھی کہ تہران پہلے امریکی افواج پر حملہ کرنے والا ہے۔بتایا جارہا ہے کہ اس بریفنگ کے بعد ڈیموکریٹس نے ٹرمپ پر انتخابی جنگ مسلط کرنے کا الزام عائد کیا اور امن مذاکرات ترک کرنے کے ان کے فیصلے پر سوالات اٹھائے، جن کے بارے میں ثالثی کرنے والے ملک عمان نے کہا تھا کہ ان میں اب بھی پیشرفت کی امید موجود تھی جب کہ ٹرمپ نے بغیر ثبوت پیش کیے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایران جلد ہی بیلسٹک میزائل کے ذریعے امریکہ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے والا تھا، اب چونچکہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس نے اس دعوے کی توثیق نہیں کی تو اس صورتحال میں یہ بات محض مبالغہ آرائی معلوم ہوتی ہے۔
ایران کی طرف سے پہلے حملہ کرنے کا کوئی اشارہ نہیں ملا، پینٹاگون کا اعتراف
مقالات ذات صلة
